دعائے جوشن صغیر

:: دعائے جوشن صغیر

 دعائے جوشن صغیر ایک مفصل دعا ہے جس کو امام موسی کاظم علیہ السلام امام موسی کاظم(ع) سے نقل کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس دعا کی قرائت دشمن کے دفع ہوجانے اور بلاؤں اور آزمائشوں سے بچاؤ میں مؤثر ہے۔ دعائے جوشن صغیر ان ادعیہ اور اذکار میں سے ہے جن کی کتابت کفن کے اوپر، از روئے روایات، مستحب ہے۔  

دعا کی سند

دعائے جوشن صغیر امام موسی کاظم(ع) سے نقل ہوئی ہے اور اس دعا کو سید ابن طاؤس نے مہج الدعوات میں،(1)  کفعمی نے البلد الامین میں،(2) اور محمد باقر مجلسی نے بحارالانوار (2-1) اور زاد المعاد میں (3) نقل کیا ہے۔ البلد الامین میں کفعمی کے نسخے اور مہج الدعوات میں سید ابن طاؤس کے نسخے میں مختصر سا فرق ہے اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں جوشن صغیر کو کفعمی کی کتاب البلد الامین سے نقل کیا ہے۔(4) 

جب شہید فخّ حسین بن علی نے عباسیوں کے خلاف قیام کیا اور بنو عباس کے گماشتوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، تو عباسی خلیفہ موسی الہادی نے خاندان رسول(ص) کے زعیم امام موسی کاظم علیہ السلام کے قتل کا فیصلہ کیا۔ علی بن یقطین نے ایک خط کے ذریعے امام کاظم(ع) کو اس سرکاری فیصلے سے آگاہ کیا اور آپ(ع) نے وہ خط اپنے متعلقین اور پیروکاروں کو پڑھ کر سنایا اور فرمایا کہ "اس سلسلے میں تمہاری رائے کیا ہے؟"؛ سب نے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ظالم و ستمگر سے روپوش ہوجائیں اور اس کی دسترس سے دور ہوجائیں۔ امام(ع) مسکرائے اور کعب بن مالک کے ایک شعر سے تمثیل کرنے کے بعد فرمایا: "ڈرو مت کیونکہ عراق سے موصولہ پہلے خط میں ہی موسی بن مہدی کی موت کی خبر آئے گی"؛ اور پھر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "میں نے دعائے جوشن صغیر پڑھنے کے نتیجے میں خواب میں اپنے جد امجد رسول اللہ(ص) کو دیکھا اور آپ(ص) نے مجھے دشمن کی ہلاکت کی بشارت دی"۔ (5)

 مضامین و مندرجات

دعائے جوشن صغیر 19 فقروں پر مشتمل ہے جن کا آغاز "اِلهى كَمْ مِنْ"، "اِلهي وَكَمْ مِنْ"، "اِلهي وَسَيِّدي وَكَمْ مِنْ"، "مَوْلاىَ وَسَيِّدى وَكَمْ مِنْ" اور "سَيِّدِى وَمَوْلاىَ وَكَمْ مِنْ" جیسی عبارات سے ہوتا ہے اور صرف فقرہ نمبر 18 اور فقرہ نمبر 19 کا آغاز دوسرے جملوں سے ہوتا ہے۔ پہلے فقرے کے آخر سے لے کر تیرہویں فقرے تک نیز انیسویں فقرے کا اختتام "وَاجْعَلْنى لِنَعْماَّئِكَ مِنَ الشّاكِرينَ وَلاِلاَّئِكَ مِنَ الذّاكِرينَ" سے ہوتا ہے لیکن چودہویں سے سترہویں فقرے کا لاحقہ " وَارْحَمْنى بِرحْمَتِكَ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ" اور اٹھارہویں فقرے کا لاحقہ "يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ" ہے۔

ان 19 میں سے ہر فقرے میں دنیا میں مؤمن فرد کی دنیاوی زندگی کی مشکلات اور سختیوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ آیا ہے اور ہر فقرے کے آخر میں دعا کنندہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ رسول اللہ(ص) اور اہل بیت(ع) پر درود و سلام بھیجے اور اس کو اللہ کے شکرگزاروں اور اس کی نعمتوں کے یاد کرنے والوں کے زمرے میں قرار دے۔

علماء کی رائے

محمد تقی مصباح یزدی کی رائے ہے کہ انسان کو دعائے جوشن صغیر کی قرائت کے ذریعے اللہ کی نعمتیں یاد آنے لگتی ہیں اور مناسب یہی ہے کہ ہر ہفتے میں ایک بار یا مہینے میں ایک بار اس دعا کو پڑھا جائے۔ وہ کہتے ہیں:

بہترین اور مؤثرترین دعاؤں میں سے ایک ـ جس میں مکرر در مکرر اللہ کی نعمتوں کی یادآوری کرائی گئی ہے اور اکابرین نے اس کے دنیاوی اور معنوی اثرات پر تاکید کی ہے ـ دعائے جوشن صغیر ہے اور مناسب ہے کہ انسان اس دعائے شریفہ کو  ہفتے میں ایک بار اور کم از کم مہینے میں ایک بار پڑھ لے تاکہ اس واسطے سے اس کو اللہ کی عظیم نعمتیں یاد آئیں جن سے کبھی انسان غافل ہوجاتا ہے۔ (6)

قرائت کے اوقات

کتب میں اس دعا کی قرائت کے لئے کسی خاص وقت کا تعین نہیں ہوا ہے لیکن "یہ دعا دشمن کے دفع ہوجانے اور بلاؤں سے محفوظ رہنے میں مؤثر ہے"۔ (7)

 شرحیں

شرح دعائے جوشن صغیر؛ شیخ اسماعیل آل عبدالجبار، نے اس شرح میں دعا کی لغات اور اعراب کی تشریح کی ہے۔ (8)

 کفن پر کتابت مستحبّ

کفن پر پورے قرآن، دعائے جوشن کبیر اور دعائے جوشن صغیر لکھنا، مستحب ہے۔ (9) ایک حدیث میں امام حسین علیہ السلام سے مروی ہے کہ جوشن صغیر اور جوشن کبیر کو کفن پر لکھا جاسکتا ہے گوکہ بہتر یہی ہے کہ عورتین پر آنے والے حصے اور پیروں کی طرف کے حصے میں نہ لکھا جائے کیونکہ اس صورت میں اس کے نجس ہونے کا احتمال ہے۔ (10)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1۔ ابن طاؤس، مهج الدعوات ومنهج العبادات، ص، 227 ـ 220۔

2۔ کفعمی، البلد الأمين و الدرع الحصين، ص326 ـ 332۔

2-1. مجلسی، بحارالانوار، ج91، ص319۔

3۔ مجلسی، زاد المعاد، ص449ـ442۔

4۔ قمی، مفاتیح الجنان، ص196ـ184۔

5۔ رجوع کریں: مجلسی، بحارالانوار، ج 91، ص 319؛ قمی، مفاتیح الجنان، ص184۔

6۔ مصباح یزدی، سجاده‌های سلوک، ج1، ص405ـ404۔

7۔ صدر سید جوادی، دائرة المعارف تشیع، ج7، ص524۔

8۔ آقا بزرگ تهرانی، الذریعة، ج13، ص247۔

9۔ یزدی، عروة الوثقی، ج 2، ص 76۔

10۔ مجلسی، محمدتقی، لوامع صاحبقرانى، ج‏2، ص230۔

 

مآخذ

* محمد کاظم، یزدی، عروة الوثقی، ج 2، قم، جامعه مدرسین، 1417ھ‍

* مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، دار احیاء تراث عربی، بیروت، 1403ھ‍

* ابن طاووس، على بن موسى‏، مهج الدعوات و منهج العبادات، دار الذخائر، قم، 1411ھ‍

* كفعمى، ابراهيم بن على عاملى‏، البلد الأمين و الدرع الحصين، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات‏، بيروت‏، 1418ھ‍

* صدر سید جوادی، احمد، دائره المعارف تشیع، تهران، جلد 7، نشر شهید سعید محبی، 1380ھ ش

* آقا بزرگ تهرانی، الذریعه الی تصانیف الشیعه، جلد 13، بیروت، دارالاضواء، 1378ھ‍

* مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ق، 2003ع‍

* قمی، عباس، مفاتیح الجنان، تهران، مرکز نشر فرهنگی رجاء، 1369ھ‍ ش

* مجلسی، محمدتقی، لوامع صاحبقرانی مشهور به شرح فقیه، موسسه اسماعیلیان، قم، 1414ھ‍

* مصباح، محمد تقی، سجاده‌های سلوک شرح مناجات‌های حضرت سجاد (ع)، ج1، انتشارات موسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی (ره)، قم، 1390ھ

 

یہ دعا دشمنوں پر اسلامی افواج کی کامیابی کے لئے بھی انفرادی اور اجتماعی شکل میں پڑھی جاتی ہے۔

دعائے جوشن صغیر کا متن اور ترجمہ "ادامه مطلب" میں ملاحظہ ہو:

منبع : شیعه خبر دعائے جوشن صغیر
برچسب ها : جوشن ,دعائے ,صغیر ,امام ,اللہ ,فقرے ,جوشن صغیر ,دعائے جوشن ,امام موسی ,وَكَمْ مِنْ ,موسی کاظم ,مجلسی، محمدتقی، لوامع ,قمی، مفاتیح الجنان،

پاراچنار کے مظلوم شہداء ہم سے کیا چاہتے ہیں؟

:: پاراچنار کے مظلوم شہداء ہم سے کیا چاہتے ہیں؟

شہید زخمی ہوتا ہے تو لمحہ بھر کی تکلیف سے بھی گذرنا پڑتا ہے لیکن اس کے بعد اس کے تمام دنیاوی دکھوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور قاتل کے دکھوں کا آغاز ہوتا ہے جو جہنم تک اس کا ساتھ دیتے ہیں۔

یوم شہادت ہی سے شہید کی روح جنت کی طرف پرواز کرتی ہے اور وہ جنت کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوجاتا ہے اور تا روز قیامت ناز و نعمت میں گذر بسر کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے روز جنت نعیم میں جگہ پائے۔

شہید کی شہادت ظالم کے ہاتھوں ہوتی ہے چنانچہ وہ مظلوم ہوتا ہے لیکن اس کے بعد عالم برزخ میں وہ اپنے رب کے پاس ہوتا ہے یا پھر اسی دنیا میں ہوتا ہے، زندہ اور گواہ ہوتا ہے ہمارے کردار کا لیکن رب متعال کے بقول ہمیں اس کی حیات کا شعور نہیں ہوتا کیونکہ ہماری نگاہ ناسوتی ہے جبکہ ملکوتی آنکھیں بھی اس کے ادراک سے عاجز ہیں صرف ربوبی نگاہ اس مرتبے اور حیات شہید کی کیفیت کا ادراک کرسکتی ہے۔

خداوند متعال نے دو مقامات پر شہید کو مردہ کہنے سے سختی سے منع کیا ہے اور ایک آیت میں تو تاکید کے ساتھ منع کردیا ہے اور اگر مراجع تقلید اس آیت کی بنیاد پر فتوی دینا چاہیں تو یقینا شہید کو مردہ کہنے کو حرام قرار دیں گے۔

شہید صاحب مقام ہے، صاحب حیات ہے اور متنعم اور متلذذ ہے اور دنیا میں قوموں کو حیات بخش دیتا ہے وہ کیسے اور کس طرح؟

ایک معاشرے میں حیات کی گنجائش ہو تو وہ حیات پالیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہار کے موسم میں آب نیسان کے قطرے جب آسمان سے گرتے ہیں تو سمندر میں رہنے والے صدفے بھی پانی کی سطح پر آکر منہ کھول کر وہ قطرے نگل لیتے ہیں اور سمند کی تہہ میں چلے جاتے ہیں اور دنیا بھر کے سانپ بھی منہ کھول کر ان قطروں کو پی لیتے ہیں لیکن ظرف میں فرق ہے چنانچہ صدفے کے منہ میں گرنے والے قطرے سے موتی اور سانپ کے منہ میں گرنے والے قطرے سے زہر بن جاتا ہے۔

ہم پاراچنار کے باسی، جنت ارضی کے باشندے، بہادر مدافعین و مجاہدین، دشمنان اسلام و پاکستان کے دانٹ کھٹے کردینے والے وغیرہ وغیرہ، بہت اچھے لوگ ہونگے لیکن کبھی ہم ایک بہت بڑی حقیقت کو بھول جاتے ہیں اور وہ حقیقت ہے شہادت کی۔

ویسے تو پاکستان بننے کے کچھ ہی سال بعد ہم پر فرقہ وارانہ حملوں کا آغاز ہوا تھا لیکن جو بےرحمانہ جنگ سنہ 2007 میں ہم پر مسلط ہوکر 5 سال تک جاری رہی اس جیسی جنگیں ملکوں کو نیست و نابود کردیتی ہیں لیکن ہمیں اپنے امام(عج) کی مدد حاصل رہی اور شہیدوں نے امام(عج) پر ہی اعتماد کرکے اس چھوٹے سے خطے کا دفاع کرتے ہوئے جان کی بازی لگا دی اور انہیں یقینا انہیں ہم سے امید ہوگی کہ ان کے خون کا پاس رکھیں گے اور ان کے خون کی برکتیں سمیٹیں گے اور آب نیسان کے قطروں سے موتی بنا کر علاقے اور قوم کے مستقبل کی ضمانت فراہم کریں گے۔ لیکن ہم کون ہیں اور ہمارا استعداد اور ہمارا ظرف کیا ہے؟ کیا ہم صدفے کی مثال ہیں یا پھر خدا نخواستہ سانپ کی مثال؟

ہمارا دعوی ہے کہ ہم شیعہ ہیں، اثنا عشری ہیں، جعفری ہیں لیکن ہم نے شیعہ ہونے کا ثبوت کہاں دیا اور کہاں دے رہے ہیں؟

ہم نے 1996 میں مقدسات کا دفاع کیا اور سو سے زیادہ نوجوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا اور 2007 میں مقدسات کا دفاع کیا تو جارح قوتوں نے ہمیں نشانہ بنایا اور اس بار اس جنگ میں ہمارے شہیدوں کی تعداد ڈھائی ہزار تک پہنچی لیکن ابھی بہت سے شہیدوں کا خون سوکھا ہی نہیں تھا، بہت سے شہیدوں کی قبریں تازہ تھیں، بہت سے شہیدوں کے بے جان دشمن وحشی دشمن کے قبضے میں تھے اور بہت سے زخمی گھروں یا اسپتالوں میں کراہ رہے تھے کہ ہم انتخابات کے ڈرامے میں شامل ہوئے جس کے دو فریق تھے اور دونوں فریق صرف اور صرف جیتنا چاہتے تھے۔ انہیں ہرگز کرم ایجنسی، پاراچنار، اس علاقے کے مظلوم عوام اور سب سے بڑھ کر پاراچنار کے شہداء یاد نہیں آئے۔ وہ بھول گئے کہ کچھ ہی دن قبل وہ ایک مورچے کے سپاہی تھے اور گروہوں میں بٹ گئے۔ وہ گروہوں کے اس بےرحم ڈرامے میں اس قدر مصروف ہوئے کہ وہ اپنا مقصد بھی بھول گئے اور کچھ ہی دن قبل ختم ہونے والی جنگ اور اس کی سختیاں بھی فراموش کر گئے۔

یہ میں اس علاقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور بڑے بوڑھوں کی بات کررہا ہوں لیڈران حضرات ـ جنہیں صرف جیتنے کا شوق تھا اور عوام کو صرف اوزار کے طور پر استعمال کررہے تھے ـ کی بات نہیں کررہا ہوں۔

لیڈران حضرات کو کبھی بھی ترس نہیں آیا اس سرزمین اور اس قوم پر؛ اور جو کچھ انھوں نے بویا اس کی وجہ سے اختلاف کی آگ بھڑک اٹھی جو پورے علاقے کو لپیٹ میں لے سکتی تھی لیکن ان ہی فراموش شدہ شہیدوں اور ان کے مولا امام عصر(عج) کی عنایات خاصہ سے ہم بچ گئے ورنہ تو سیاسی اختلافات کی وجہ سے ہم میں سے بہت سوں نے ان ہی مقدسات کی بےحرمتی کی جن کے تحفظ کے لئے ہم اپنی پوری تاریخ میں خون دیتے رہے تھے تو کیا ہم سزا کے مستحق نہ تھے؟ لیکن اگر ہمیں سزا نہیں ملی تو اب بھی وقت ہے بیدار ہونے کا، بیداری آئے گی تو ہم سمجھ لیں گے کہ شاید ہم کفر اور شرک تک میں مبتلا ہوئے سیاسی اختلافات کی بنا پر، بیدار ہونگے تو توبہ اور استغفار کریں گے اور عملی طور پر اپنے کئے کی تلافی کریں گے، اپنے کرتوتوں کی تلافی کریں گے تو سمجھا جائے گا کہ ہم نے عملی طور پر توبہ کی ہے۔

ان ایام میں وہ لوگ میدان میں نہیں ہیں جو سید پختون اور طوری بنگش کی باتیں کررہے تھے وہ لوگ کسی بھی وجہ سے پیچھے ہٹے ہیں یا ہٹائے گئے ہیں تو اس موقع کو غنیمت سمجھ لینا عملی توبہ کے زمرے میں آتا ہے؛ اگر اب بھی قوم کی صفوں میں اختلاف افگنی اور شر انگیزی کرنے والے عناصر موجود ہیں تو انہیں گھر بھیجنا عملی توبہ کے زمرے میں آتا ہے؛ علامہ مظاہری صاحب شاید یہ سب کچھ سمجھ چکے ہیں، شاید انہیں احساس ہے کہ شہیدوں کے خون کے تحفظ میں، ان کے مقاصد آگے بڑھانے میں اور ان کی تکریم و تعظیم کرنے میں کافی تاخیر ہوئی ہے اور مزید تاخیر تباہی اور بربادی آسکتی ہے اور دشمن اپنی ان سازشوں میں کامیاب ہوسکتے ہیں جن کے حصول کے لئے انھوں نے ہمارا بےتحاشا خون بہایا لیکن اسی خون نے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا اور اب بھی اگر غفلت کریں گے ان کے خون کے تحفظ میں تو شاید یہ خون بھی ہمیں سازشوں اور تباہیوں سے نہ بچا سکے۔

علامہ مظاہری نے اتحاد و اتفاق کے لئے جو اقدامات کئے ہیں وہ بہت قابل تعریف ہیں لیکن انہیں بھی شاید کئی مسائل کا سامنا ہے اور اب بھی ان کے گرد بعض ایسے عناصر گھوم رہے ہیں جو پھر بھی اپنا پرانا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ علامہ مظاہری کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہئے اور جس جس کا بھی دل جلتا ہے اس علاقے کے باشندوں اور اس سرزمین کے لئے اس کو علامہ کا ہاتھ بٹانا چاہئے اور جو بھی شخص اس سرزمین میں رہتا ہے اور وہ کچھ کرنے کا قابل ہے تو اس کو علامہ کا ساتھ دینا چاہئے اس لئے کہ ہمیں شہیدوں کے خون سے مزین سرزمین کا تحفظ عزیز ہونا چاہئے، جو بھی شخص ـ چاہے اس کا تعلق انتخابات کے وقتوں کی اِس پارٹی سے تعلق ہو یا اُس پارٹی ہے ـ اگر اپنے ذاتی مفاد کو مقدم رکھے اور اپنے پرانے موقف کو ترک نہ کرے تو کرم کے نوجوانوں اور ہمدردوں کو حق پہنچتا ہے کہ اس کی بازپرس کریں اور اس کو ہر قسم کی منفی سرگرمیوں سے روک دیں۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہم کسی بھی مسئول شخص کو بلینک چیک نہیں دے سکتے کہ جو چاہے کرے یقینا لوگ بیدار ہیں اور وہ اپنے مشران کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہيں اور وہ سب عوامی عدالت میں جوابدہ ہیں چاہے وہ علماء ہوں، چاہے انجمن کے اراکین ہوں یا پھر اقوام اور قبائل کے سربراہ اور ملک اور خان ہوں۔ لہذا بڑوں کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور انہیں جان لینا چاہئے کہ قوم کی سربراہی سنبھال کر انہیں اب اپنی ذاتی اور خاندانی زندگی کے مسائل اپنے گھر والوں کو سونپ لینا چاہئے اور کسی صورت میں بھی ذاتی اور خاندانی مسائل کو قومی مسائل میں مداخلت نہ دیں اور قومی ذمہ داریوں کو بینک بیلنس بڑھانے کا ذریعہ نہ بنائیں ورنہ ان سے بازپرس ہوگی اور انہیں گھر بھیجنے میں کسی قسم کی احتیاط سے کام نہیں لیا جائے گا۔ وہ سب میری اور میرے قارئین کی طرح شہداء کے مقروض ہیں اور اب شہداء کا قرضہ چکانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

ایک ضابطے کی ضرورت ہے اور اس ضابطے کی خلاف ورزی پر سزا کی ضرورت ہے: ضابطہ یہ ہونا چاہئے کہ جو بھی جس کسی بھی نام سے اختلافی بات کرے سننے والے اسی وقت اس کو ہانک دیں اور اس سے مقاطعہ کریں [یعنی اس کا بائیکاٹ کریں]۔ جنہوں نے مقدسات کی توہین کی ان سے مقاطعہ کریں اور اگر وہ توبہ نہیں کرتے تو انہیں ایجنسی بدر کریں۔ جو بھی عالم، پروفیسر، مشر، کشر، چھوٹا، بڑا، خان، ملک اور پیر یا مرشد اختلافی مسائل چھیڑے اور اختلاف و تعصب کی بنا پر اپنی دکان چمکانا چاہے اس کا مقاطعہ کیا جائے چاہے وہ جیسی بھی معاشرتی حیثیت کا مالک ہو۔

یہ باتیں میری نہیں ہیں بلکہ میری قوم اور میرے علاقے کے ہر چھوٹے بڑے کی باتیں ہیں اور سب کی یہی خواہشیں ہیں اور یہی ان کی ضروریات کے تقاضے ہیں۔ ہم سب بھائی بھائی تھے، ہیں اور رہنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے سوا ہماری حیات جاری رہنے کا تصور ہی ممکن نہیں ہے۔ میں بھائی چارہ اس لئے چاہتا ہوں کہ آپ زندہ رہیں اور آپ کے زندہ رہنے کی خواہش اس لئے کرتا ہوں کہ آپ زندہ ہوں تو میں بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔ [بات آئی سمجھ میں؟]

آئیے! مزید اپنے شہیدوں پر ظلم کا خاتمہ کریں، شہیدوں کے صدقے اللہ نے ہمیں محفوظ رکھا ہے اور اب ہم سب مل کر شہیدوں کے خون اور ان کے مقاصد کو محفوظ رکھیں۔  

بقلم: ف۔ح۔مہدوی

منبع : شیعه خبر پاراچنار کے مظلوم شہداء ہم سے کیا چاہتے ہیں؟
برچسب ها : نہیں ,لیکن ,شہیدوں ,انہیں ,اپنے ,کریں ,علامہ مظاہری ,لینا چاہئے ,عملی توبہ ,مقاطعہ کریں ,تلافی کریں

شہداء شاہد ہیں

:: شہداء شاہد ہیں

خداوند متعال سورہ آل عمران میں ارشاد فرماتا ہے:

156۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَكُونُواْ كَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُواْ فِي الأَرْضِ أَوْ كَانُواْ غُزًّى لَّوْ كَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ لِيَجْعَلَ اللّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ وَاللّهُ يُحْيِـي وَيُمِيتُ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ 

ترجمہ: اے ایمان لانے والو! تم ان کی طرح نہ ہو جنہوں نے کفر اختیار کیا اور اپنے بھائی بندوں کے لیے جب انہوں نے سفر کیا یا جنگ پر گئے، یہ کہنے لگے کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ، تاکہ اللہ ان کے دل میں اس رنج و حسرت کو رکھ دے اور اللہ زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا دیکھنے والا ہے۔

157. وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

ترجمہ: اور اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی طرف کی بخشش اور عنایت اس سے جو وہ لوگ جمع کرتے ہیں زیادہ بہتر تھی۔

158. وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإِلَى الله تُحْشَرُونَ

ترجمہ: اور اگر تم مرو یا مارے جاؤ تو بلا شبہ اللہ ہی کی طرف محشور ہو گے۔

159. فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظّاً غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ

ترجمہ: تو یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی مہربانی ہے جس سے آپ ان کے لیے اتنے نرم ہیں اور اگر آپ سخت طبیعت ، درشت مزاج ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے تتر بتر ہو جاتے تو انہیں معاف کر دیا کیجئے اور ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کر دیجئے اور معاملات میں ان سے مشورہ بھی لے لیا کیجئے مگر جب حتمی ارادہ کر لیجئے تو اللہ پر بھروسا کیجئے۔ یقینا اللہ بھروسا کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

160. إِن يَنصُرْكُمُ اللّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكِّلِ الْمُؤْمِنُونَ

ترجمہ: اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہاری مدد نہ کرے تو پھر وہ کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے اور صرف خدا پر بھروسا کرنا چائیے ایمان لانے والوں کو۔

161. وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ

ترجمہ: اور کسی پیغمبر سے یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مال غیبت میں بددیانتی کرے اور جو بددیانتی کرے گا، اسے وہ چیز جس کے بارے میں بددیانتی کی ہے ، روز قیامت لانا ہو گی، پھر ہر ایک کو جو اس نے کیا ہے ، اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہو گا۔

 

162. أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّهِ كَمَن بَاء بِسَخْطٍ مِّنَ اللّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

ترجمہ: تو کیا جو اللہ کی خوشنودی کے درپے رہے ، وہ اس کے مثل ہے کہ جو اللہ کی ناراضگی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانا دوزخ ہو وہ کیا بری منزل ہے۔

163. هُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ اللّهِ واللّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

ترجمہ: ان کے اللہ کے یہاں در جے ہیں اور اللہ جو کچھ وہ کرتے ہیں، اس کا دیکھنے والا ہے۔

169. وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

ترجمہ: اور ہرگز نہ سمجھو کہ وہ ـ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں، ـ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے یہاں رزق و نعمت پاتے ہیں۔

گمان مبر آنان را كه در راه حق شهيد شده‏اند مرده‏اند؛ خير، آنها زندگانى هستند نزد پروردگارشان و متنعم به انعامات او

170. فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ

ترجمہ: خوش خوش اس پر جو اللہ نے اپنے فضل وکرم سے انہیں دیا ہے اور اپنے پسماند گان کے حال سے جو ان کے پاس نہیں پہنچے ہیں، وہ خوش ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہے اور نہ کوئی انہیں افسوس ہونے والا ہے۔

 

171. يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ: اللہ کی بڑی عنایت اور کرم سے خوش ہوتے ہیں اور اس سے کہ اللہ ایمان والوں کے ثواب کو برباد نہیں کرتا۔

 

172. الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِيمٌ

ترجمہ: وہ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہی، ان میں سے جنہوں نے حسن عمل سے کام لیا اور بچتے رہے، ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔

 

173. الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

ترجمہ: وہ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بڑا لشکر جمع کیا ہے، ان سے ڈرو تو اس سے ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور بڑا اچھا کارساز۔

 

174. فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّهِ وَاللّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ

ترجمہ: تو وہ پھرے اللہ کی عنایت اور فضلکے ساتھاس طرح کہ انہیں کوئی برائی چھو بھی نہیں گئی اور وہ اللہ کی خوشنودی کے درپے رہے اور اللہ بڑے فضل وکرم والا ہے۔

 

اول:

شہداء زندہ ہیں مگر وہ کیسے؟

جملہ: "شہداء زندہ ہیں" کے معنی کیا ہیں؟

اس آیت کا جواب سورہ آل عمران کی آیت 156 اور بعد کی آیات کریمہ میں ہی تلاش کرنا چاہئے جنہیں ابتداء میں پیش کیا گیا:

اسی سورت کی آیت 169 میں ارشاد ہوتا ہے: 

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ

ترجمہ: اور ہرگز نہ سمجھو کہ وہ ـ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں، ـ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے یہاں رزق و نعمت پاتے ہیں۔

بےشک اللہ کا کلام بےحکمت نہیں ہوتا اور اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں ہوتا چنانچہ شہیدوں کی زندگی ایک فرضی اور ذہنی زندگی نہیں ہے بلکہ حقیقی اور واقعی زندگی ہے۔

آیت کریمہ لفظ "احیاء" جو کہ "حیات" سے ماخوذ ہے، میں حیات اور زندگی حقیقی ہے اور یہ صرف دل خوش کرنے کے لئے نہیں ہے۔

کافر بھی موت کے بعد زندہ ہے لیکن اس کی زندگی کو لفظ بوار [ہلاکت و تباہی] سے تعبیر کیا گیا ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالی سورہ ابراہیم کی آیت 28 میں ارشاد فرماتا ہے:

"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعْمَةَ اللّهِ كُفْراً وَأَحَلُّواْ قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ"۔

ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے نعمت الہٰی کے بدلے میں ناشکری سے کام لیا اور اپنی جماعت کو داخل کیا ہلاکت کے گھر میں ، جو دوزخ ہے۔

اسی طرح کی دوسری آیات کریمہ بھی ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ شہیدوں کی حیات سعادت کی حیات ہے اور صرف حرف اور لفظ کی بات نہیں ہے۔ ایسی حیات ہے جو شہید تک محدود نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی مؤمنین کو اس کے ذریعے زندہ کرتا ہے۔

اخروی زندگی کے بارے میں اللہ تعالی نے سورہ عنکبوت کی آیت 64 میں ارشاد فرمایا ہے:

"وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ"۔

ترجمہ: اور یہ دینوی زندگی نہیں ہے مگر تماشا اور کھیل، اور یقینا آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے کاش وہ جانیں۔

قرآن زندگی کی ایک خاص قسم بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے اور سورہ بقرہ کی آیت 154 میں ارشاد فرماتا ہے:

"وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبيلِ اللّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لاَّ تَشْعُرُونَ"۔

ترجمہ: "اور انہیں جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں، بلکہ وہ [واقعی] زندہ ہیں مگر تمہیں شعور نہیں ہے"؛ یعنی تمہیں ان کی زندگی کا ادراک نہیں ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ شہداء کو اموات اور مردے مت کہو ، وہ زندہ ہیں اور آل عمران کی آیت 169 کے مطابق اللہ کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ ان کو نعمتیں ملتی ہیں جن سے وہ استفادہ کرتے ہیں۔ آیت 171:

"فَرِحِينَ بِما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ"

ترجمہ: خوش خوش اس پر جو اللہ نے اپنے فضل وکرم سے انہیں دیا ہے۔

وہی آیت:

"وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ"۔

ترجمہ: وہ خوش ہوتے ہیں اپنے پسماند گان کے حال سے جو ان کے پاس نہیں پہنچے ہیں۔

شہداء اپنے ان دوستوں اور پسماندگان کے لئے مسلسل بشارتوں اور اچھی خبروں کی تلاش میں ہیں جو ابھی ان کے پاس نہیں پہنچے ہیں، یعنی ان کے ایسے دوست اور پسماندگان ہیں جو ابھی دنیاوی حیات کی قید میں ہیں اور شہداء ہمیشہ منتظر ہیں کہ ان [شہداء] کو یہ بشارت اور خوشخبری پہنچ جائے کہ ان کا فلاں دوست یا عزیز بھی جام شہادت نوش کرگیا ہے اور بہت جلد ان سے جا ملے گا۔ 

خداوند متعال کہنا چاہتا ہے کہ شہداء مرنے کے بعد زندہ ہیں۔ مستبشر ہیں، خوش و خرم ہیں، مسرور و شادماں ہیں، رزق پاتے ہیں اور آگاہ ہیں؛ حتی اس دنیا سے بھی آگاہ ہیں جس سے وہ گذر چکے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن واقعی شہیدوں کے لئے موت کے بعد حیات کا قائل ہے، حالانکہ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا جسد خاکی مر کر بےجان ہوچکا ہے، قرآن یہ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ زیر خاک ہیں اور مثال کے طور پر ان کا منہ کھول دیا جاتا ہے اور ان کے منہ میں دودھ اور شہد ڈالا جاتا ہے؛ یہ نہیں کہہ رہا کہ اس مٹی تلے بلکہ کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں [عِنْدَ رَبِّهِمْ] مرزوق ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

لوگ جو نہیں سمجھتے کہ ان کی حیات کی کیفیت کیا ہے اور کس طرح زندہ ہیں سبب یہ ہے کہ ان کے حواس خمسہ زندگی اور مادی دنیا کے خواص کے ادراک میں مصروف اور محصور ہوچکے ہیں اور اس کے سوا انھوں نے کچھ سمجھنے اور ادراک کرنے کا ارادہ تک نہیں کیا ہے، اور چونکہ وہ نہیں سمجھ سکے ہیں لہذا وہ شہادت کی بعد کی زندگی اور فنا کے درمیان فرق نہیں کرسکے ہیں اور اس کو بھی فنا اور نابودی سمجھ بیٹھے ہیں اور یہ باطل خیال کفار تک محدود نہیں تھا بلکہ مؤمن اور کافر دونوں اس دنیا میں خطا سے دوچار ہیں۔ ان لوگوں کی مانند جو گمان کئے بیٹھے ہے کہ شہادت کی بعد کی زندگی سے مراد یہ ہے کہ "شہید کا نام زندہ رہتا ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ اس کا ذکر جمیل فراموشی کا شکار نہیں ہوتا"۔

اس تصور میں مسئلہ یہ ہے کہ:

1۔ جو معنی انھوں نے اس آیت کریمہ کے لئے بیان کئے ہیں اور فریب کاری کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس طرح کا تصور صرف وہم ہی میں وجود پاسکتا ہے اور زمین پر اور حقیقت میں یہ تصور ظہور پذير نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک خیالی اور توہماتی حیات ہے جو نام کی حد تک محدود ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس طرح کا خیالی اور تصوراتی موضوع ہرگز کلام اللہ کے لائق نہیں ہے؛ جبکہ اللہ صرف اور صرف حق کی طرف دعوت دیتا ہے اور سورہ یونس کی آیت 32 میں ارشاد فرماتا ہے:

"فَما ذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ"۔

ترجمہ: تو کیا ہے حق کو چھوڑنے کے بعد سوائے گمراہی کے۔ (تو پھر خداوند متعال کس طرح اپنے بندوں سے ارشاد کرتا ہے کہ "میری راہ میں جان کی بازی لگا دو اور میری زندگی سے چشم پوشی کرو تا کہ تمہاری موت کے بعد کہہ دیں کہ "کتنا اچھا انسان تھا یہ؟)"۔ اگر بات صرف تسلی دینے، تعزیت کہنے اور دل خوش کرنے کی ہوتی تو کیا بہتر نہ تھا کہ ارشاد ہوتا کہ "ان کا نیک نام ہمیشہ کے لئے زندہ اور باقی ہے اور لوگ موت کو بعد انہیں نیکنامی کے ساتھ یاد کرتے ہیں" کیونکہ مقصد ہی تسلی دینا اور دلوں کو خوش کرنا تھا!

ہاں! مگر یہ دل خوش کرنے والی باطل اور جھوٹا تصور، اور مادہ پرستوں کے مسلک سے ہمآہنگ ہے کیونکہ وہ نفوس کو بھی مادی سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ انسان مکمل طور پر فانی اور باطل ہے اور آخرکار نابود ہوجائے گا؛ یہ لوگ اخروی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔

انھوں نے محسوس کیا کہ انسان فطرتاً محتاج ہے اس امر کا کہ اہم امور کے سلسلے میں نفوس کی بقاء کا قائل ہو اور یہ نفوس موت کے بعد سعادت یا شقاوت سے متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ بلند اہداف تک پہنچنے کے لئے جانفشانی اور قربانی کی ضرورت ہے بالخصوص بہت زیادہ اہم اہداف، جن کے حصول کے لئے بعض قوموں کو مارا جانا پڑتا ہے تا کہ دوسری قومیں زندہ رہیں۔

پس اگر اس بات کو حقیقت کے طور پر قبول کیا جائے کہ جو بھی مرتا ہے، وہ نیست و نابود ہوجاتا ہے، تو پھر کون ہے جو اپنے آپ کو دوسروں کے لئے قربان کرے؟ اور جو شخص موت کو نابودی اور فنا اور باطل سمجھتا ہے وہ کیونکر دوسروں کی حیات کے لئے اپنے آپ کو نابود اور باطل کرسکے گا؟ کیسے ممکن ہے کہ اپنے وجود کو باطل کرے تا کہ دوسرے زندہ رہیں اور اپنے نفس کو زندگی سے محروم کردے تا کہ دوسری کی حیات کا تحفظ ہو؟ وہ دنیاوی لذتوں کو ظلم و ستم اور دوسروں کے حقوق پامال کرکے حاصل کرسکتا ہے، کیونکہ گنوا سکتا ہے تا کہ دوسروں کو عدل و انصاف بھرا ماحول فراہم ہوسکے اور اس ماحول میں دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور ہو؟

بےشک کوئی بھی عقلمند شخص اپنی کوئی چیز، کوئی متناسب شیئے کے حصول کا یقین کئے بغیر، نہیں گنواتا۔ مادہ پرست افراد اور معاشرے کی فطرت یہ ہے اور چونکہ وہ اس معنی کے سمجھتے ہیں چنانچہ انھوں نے دل خوش رکھنے کے لئے بعض اوہام اور خرافاتوں کا سہارا لیا۔ ایسی خرافات جو خیالات اور تصورات کے میدان اور وہم و گمان کی چاردیواری کے سوا کہیں اور پرورش نہیں پاتی۔ بطور مثال وہ کہتے ہیں: وہ حریت پسند اور آزاد فکر افراد جو خرافات اور توہماہت کی قید سے آزادی پاچکے ہیں، انہیں اپنے وطن کی سالمیت نیز انسانی شرف کے لئے قربانی دینے کی ضرورت ہے، اپنی جان کی قربانی دیں تا کہ دائمی اور ابدی زندگی تک پہنچ سکیں؛ اور وہ یوں کہ اس کا ذکر خیر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معاشروں میں زندہ جاوید رہے اور اس مقدس مقصد کے حصول کے لئےاپنی بعض دستیاب لذتوں سے چشم پوشی کریں تا کہ دوسرے ان سے بہرہ ور ہوجائیں؛ کیونکہ اس کے نتیجے میں معاشرے اور تہذیب کا کام پایۂ تکمیل اور استقرار و استقامت تک پہنچے اور معاشرتی انصاف قائم ہوجائے اور جس نے جان کی بازی لگائی ہے وہ شرف اور سربلندی کی حیات پائے۔

کسی نے آج تک گویا ان سے یہ نہیں پوچھا کہ جب وہ جان نثار شخص مارا جائے اور اس کے مادی جسم کا نیست و نابود ہوجائے اور حیات و شعور سمیت اپنی تمام تر خصوصیات کو گنوا بیٹھے، تو وہ پھر کون ہوسکتا ہے کہ شرف اور عظمت کی حیات سے بہرہ ور ہوسکے؟ اور وہ کون ہوسکتا ہے جو اس نیک نام کو سن لے اور اس کے نام سے لطف اٹھائے؟ کیا یہ بات بذات خود خرافات نہیں ہوگی؟

 

دوئم:

یہ جو سورہ بقرہ کی آیت 154 میں جملہ "وَلكِنْ لا تَشْعُرُونَ" کی تفسیر بھی اس قسم کے تصورات سے ہمآہنگ نہیں ہے کیونکہ اگر جملہ "وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے" سے مراد نیکنامی ہوتی تو اللہ کو فرمانا چاہئے تھا کہ "ان کا نیک نام زندہ اور باقی رہے گا اور لوگ انہیں نیکی کے ساتھ یاد کریں گے"۔ کیونکہ اس تصور میں دل خوش کرنے اور تعزیت و تسلی دینے کو مقصد سمجھا گیا ہے۔

اس جملےکے ایک معنی یہ ہیں کہ شہید کا ایک مقام و مرتبہ ذات حق تعالی سے اس کی پیوستگی ہے:

"وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاء عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"۔  

ترجمہ: اور ہرگز نہ سمجھو کہ وہ ـ جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں، ـ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے یہاں رزق و نعمت پاتے ہیں۔

دین اسلام میں جب کسی شخص یا کسی عمل کی منزلت و فضیلت کو بڑھانا مقصود ہو، کہا جاتا ہے کہ فلان شخص کا مقام شہید کے مقام کے برابر ہے یا فلان شخص عمل کا اجر شہید کے اجر کے برابر ہے۔

مثلا اگر طالب علم کا محرک واقعی الہی اور نیت خالص ہو اور ارادہ خدمت اور اللہ کی قربت ہو اور اپنے علم کو اپنی ذات اور نفسانی خواہشات کا وسیلہ قرار نہ دے تو اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "اگر کوئی شخص طالب علم ہو [خواہ علوم دین حاصل کررہا ہو، خواہ دنیاوی علوم کے حصول میں مصروف ہے] اور طلبِ علم کی حالت میں وفات پائے وہ شہید ہوکر مرا ہے"۔ یہ عبارت طالب علم کے تقدس اور اس کی منزلت کی رفعت کی غمازی کرتی ہے۔

جو شخص اپنے اہل خانہ کے لئے اپنے آپ کو رنج و مشقت برداشت کرے اور کام کرے اور زحمت کرے ـ جوکہ درحقیقت بجائے خود ایک فریضہ ہے کیونکہ اسلام بےکاری اور کام چوری اور لوگوں پر بوجھ بننے کے سخت خلاف ہے، ـ وہ مجاہد کی مانند ہے۔ چنانچہ علامہ محمد بن یعقوب کلینی، الکافی کی جلد 5 صفحہ 88 پر نقل کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"اَلْكَادُّ عَلَى عِيَالِهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّه"۔

ترجمہ: جو شخص اپنے خاندان کے لئے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے وہ راہ خدا میں مجاہد کی مانند ہے۔

شہید کی مثال شمع کی مانند ہے جس کا کام جلنا، روشنی دینا اور اللہ کی راہ اور معاشروں کی خدمت میں فدا ہونا ہے تا کہ دوسرے اس کی قربانی کی روشنی میں امن و سکون میں اپنا کام کریں۔

جی ہاں! شہداء محفلِ انسانیت کی شمع ہیں، جنہوں نے جل کر انسانیت کی محفل کو روشن کیا۔ اگر یہ محفل تاریک رہتی تو کوئی بھی اپنا کام شروع نہیں رکھ سکتا تھا اور اپنے کاموں کو جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔

انسان جو دن کے وقت سورج کی روشنی میں محنت کرتا ہے یا رات کو چراغ یا شمع کی روشنی میں کوئی کام انجام دیتا ہے وہ ہر چیز کی طرف توجہ کرتا ہے سوائے اس چراغ یا شمع کے، جو اس کو روشنی دیتا ہے حالانکہ اگر دن کے وقت سورج اور رات کے وقت چراغ نہ ہوتا تو اس کی تمام حرکتیں رک جاتیں اور تمام کوششیں اور سرگرمیاں بند ہوجاتیں۔

شہداء معاشرے کو روشنی دینے والے اور روشن شمعیں ہیں اور اگر استبدادیتوں اور استحصالوں کے اندھیروں میں ان کی پرتو افگنی نہ ہوتی انسان ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکتا۔

شہادت کے دو ستون ہیں: ایک یہ کہ اس کو راہ خدا میں اور فی سبیل اللہ ہو، ہدف مقدس ہو اور انسان چاہے اپنی جان کو مقصد کے لئے فدا کرنا چاہے۔

دوسرا ستون یہ ہے کہ یہ مجاہدت اور یہ شہادت آگہی پر استوار ہو۔

چونکہ شہادت ایک آگاہانہ اور اختیاری عمل ہے اور ایک مقدس ہدف کے راستے میں ہوتی ہے اور ہر قسم کی نفسانی اور خودپرستانہ محرکات سے آزاد اور پاک و منزّہ ہے، تحسین انگیز اور افتخار آمیز ہے اور ایک بہادرانہ اور نہایت اعلی پائے کا خدائی رتبہ ہے۔ موت کی مختلف قسمیں ہیں اور ان میں اس قسم کی موت ہی ہے جو حیات و زندگی سے برتر و بالاتر اور سب سے زیادہ مقدس، زیادہ عظیم اور زیادہ قابل قدر ہے لہذا اس کو شہادت کہا جاتا ہے۔ دنیاوی حیات کے حامل شخص کی نگاہ محدود ہے اور شہید زیادہ دیکھنے والا اور گواہ ہے اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ شہادت موت کی شکست ہے۔

مہندر سنگھ بیدی سحر سیدالشہداء علیہ السلام کی خدمت میں ہدیۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے                  مر کے جینا سکھا دیا تو نے

پس شہید مر کے جیتا ہے اور باقی لوگ جی کر مرجاتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: ف۔ح۔مہدوی

منبع : شیعه خبر شہداء شاہد ہیں
برچسب ها : نہیں ,اللہ ,ترجمہ ,اپنے ,زندہ ,زندگی ,مِّنَ اللّهِ ,اپنے پروردگار ,سَبِيلِ اللّهِ ,پاتے ہیں۔ ,ارشاد فرماتا ,وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ ,عِندَ

آلودہ قلم علم کا سرچشمہ نہیں ہوسکتا

:: آلودہ قلم علم کا سرچشمہ نہیں ہوسکتا

اوریا مقبول جان کے ایک بےثبوت و سند مضمون کا جواب

اوریا مقبول جان نے قلم اٹھایا ہے اور جو چاہا ہے وہ لکھا ہے! گویا یہ شخص اپنے لئے کوئی مقام و عزت یا دولت و شہرت کا انتظام کرنے کے لئے ہر وہ بات کرتا اور لکھتا ہے جس کی ایک دھار ایران یا مذہب تشیع کی جانب ہوتی ہے۔

بےشک بھارت پاکستان کا دشمن ہے اور وہ دشمنی کرتا ہوا شرماتا ہے نہ ہی خوفزدہ ہوتا ہے اور اوریا صاحب نے اس کو بالکل بھول کر پوری داستان کا رخ ایران کی طرف گھمایا ہے اور یوں انھوں نے بھارت کی اچھی خاصی خدمت بھی کی ہے کیونکہ انھوں نے اس مضمون اور اس طرح کی دوسری قلم فرسائیوں سے پاکستان کی رائے عامہ کو بھارتی ریشہ دوانیوں سے منحرف کرکے ایران کی طرف منعطف کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھارتی سفارتخانے سے ان کے تعلقات پر نظر رکھنا بہر صورت ہمارا نہیں بلکہ پاکستان کے قومی اداروں کا کام ہے اور وہ اس فریضے سے عہدہ برآ ہونے کی قوت رکھتے ہیں۔

کیا معلوم زاہدان میں پاکستانی قونصل خانے میں کون لوگ بیٹھے ہیں؟ کیا وہ پاکستانی ہیں یا القاعدہ اور طالبان کے نمایندے ہیں جناب اوریا صاحب کی مانند؟ اس قیاس آرائی کا حق مجھ جیسوں کو اس لئے بھی پہنچتا ہے کہ پاکستان کے حساس ترین اور اہم ترین اداروں پر حملے ہوچکے ہیں جی ایچ کیو اور نیوی کے اڈے پر حملے ہوچکے ہیں، آئی ایس آئی کی بسوں اور پاکستان آرمی کے جرنیلوں پر حملے ہوچکے ہیں اور ان پر حملوں کی ذمہ داریاں بھی اوریا صاحب کی پسندیدہ عالمی دہشت گرد تنظیم طالبان نے قبول کی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پاکستان کے اہم اداروں کے اندر بھی اوریا صاحب کے ہم فکر لوگوں کی کمی نہیں ہے۔

جو لوگ اس قسم کے حساس موضوعات پر لکھتے ہیں اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پر انہیں کچھ بطور ثبوت پیش کرنا چاہئے اور اگر ثبوت و سند پیش نہ کرسکے تو اس شخص کو زرد صحافت کے میدان میں بےقدر و وقعت قلم کار کا عنوان دینے میں زیادہ قباحت محسوس نہیں ہوتی۔

اب اتے ہیں ان کے الزامات کی طرف:

لکھتے ہیں:

"لوگوں کو حیرت ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے ایران کی سرزمین استعمال کر رہا تھا، لیکن وہ لوگ جو صد ہا سال سے بلوچستان میں رہتے ہیں اور وہ پڑوسی ایرانیوں کو جانتے ہیں، ان کے لیے یہ بالکل چونکا دینے والا واقعہ نہیں تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک اعلیٰ سطح کا عہدیدار’’کل بھوشن یادیو‘‘ چاہ بہار میں بیٹھ کر بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور فرقہ وارانہ کارروائیوں کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا تھا اور اس کے حوصلے اسقدر بلند ہو گئے تھے کہ وہ بے دھڑک پاکستان آ جا رہا تھا"۔

 اوریا صاحب! کمال کی بات ہے کہ مذکورہ شخص پاکستان میں تخریب کاری کے لئے ایران کی سرزمین استعمال کررہا تھا، اور آپ جیسے بہادر کہیں آرام فرما رہے تھے؛ بلوچستان کی سرزمین میں رہنے والے اپنے پڑوسی کو بخوبی جانتے ہیں وہی جہاں سے ان کا سامان رزق مہیا ہوتا ہے اور وہی جو حتی اشیائے خورد و نوش کو بھی وہیں سے فراہم کرتے ہیں اور بعض علاقوں کو بجلی بھی وہیں سے مہیا کی جاتی ہے اور انہیں آج بھی پتہ نہیں ہے کہ بھارت ان کی سرزمین میں تخریب کاری کررہا ہے وہ تو دوسرے لوگوں سے شکایت کرتے چلے آرہے ہیں جنہوں نے ان کے مسلمہ حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ وہ تو اپنے حقوق کے لئے تحریکیں دوسروں کے خلاف چلا رہے ہیں اب یہ نہیں معلوم کہ اوریا صاحب کیونکر ان کی نمایندگی کررہے ہیں جنہیں بظاہر معلوم ہی نہیں ہے کہ بلوچستانی عوام پر کیا گذر رہی ہے؟

یہ کہ بھوشن یادیو بلوچستان میں آزادی سے آجا رہا تھا اس میں ایران کا کیا قصور ہوسکتا ہے وہ تو پاکستانی اداروں کی ذمہ داری تھی کہ اس کو روک لیتے اور اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ شخص چابہار میں بیٹھا تھا تو اوریا صاحب نے اگلی سطور میں خود ہی لکھا ہے کہ وہ کسی اور مقصد سے وہاں بیٹھا تھا نہ کہ تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرپرستی کے مقصد سے۔۔۔ ویسے بھی پورے پاکستان میں اوریا صاحب کے ہمدرد آئے دن دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اسکولوں تک کو بھی معاف نہیں کرتے تو کیا اس کی ذمہ داری بھی ایران پر ڈالی جائے گی؟ کیا دوسروں پر الزام لگا کر کسی ملک کو اس کی پیش ورانہ ذمہ داریوں سے بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ دوسروں پر ذمہ داری ڈالنے کی پالیسی ایک گھسی پھٹی پالیسی ہے جو اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان کو سنہ 1985 سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور اسی دور سے جو لوگ پاکستان کے سرکاری اور فوجی اہلکاروں سمیت ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کرچکے ہیں وہ آج طالبان کی شکل میں موجود ہیں اور اوریا صاحب کی ان سے ہمدردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ سوال ایران سے نہیں پاکستان کے اداروں سے پوچھنے کا ہے کہ بھوشن جیسے لوگ بے دھڑک کیوں پاکستان میں داخل ہوتے تھے؟ کیا پاکستان کی داخلی سلامتی کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے جہاں کئی بار خودکش حملہ آور بھی پاکستان سے آئے اور بات ثابت بھی ہوئی جن کے بارے میں دو ملکوں کے اعلی اہلکاروں کے درمیان بلاتکلف بات چیت بھی ہوئی۔

جند اللہ دہشت گرد تنظیم اور اس کا معدوم سرغنہ عبدالمالک ریگی کا پاکستان میں آزادانہ بسیرا، اس کے لئے پاکستانی شناختی کارڈ کا اجراء وغیرہ وغیرہ مستند واقعات ہیں جو اوریا صاحب کی تیز بین آنکھوں !!! سے دور نہ رہے ہونگے! لیکن اس کے باوجود پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلق کے پیش نظر ہم جیسوں نے کبھی حکومت پاکستان پر جنداللہ کی سرپرستی کا الزام نہیں لگایا حالانکہ ایران میں کبھی بھی اس قسم کی کوئی تنظیم نہیں رہی جو علی الاعلان پاکستان میں دھماکے اور تخریبکارانہ اقدامات کا ارتکاب کرتی رہی ہو۔

 

اوریا مقبول جان لکھتے ہیں:

"ایران اور پاکستان کا بارڈر کوئی افغانستان کی طرح نہیں ہے کہ جس سے ہر کوئی مختلف غیر معروف راستوں سے ادھر ادھر آتا جاتا رہا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد کو شاندار اور مضبوط قسم کی تاروں سے بنی جالی سے بند کر دیا تھا جس پر رات دن ان کا گشت جاری رہتا تھا۔ 2007ء میں ایران نے اپنی سرحد پر 3 فٹ چوڑی اور دس فٹ بلند دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ شروع کیا جو سات سو کلو میٹر لمبی سرحد پر بنائی جانا تھی۔ اس پوری سرحد کو ایرانی ہی کنٹرول کرتے ہیں اور کوئی ان کی مرضی کے بغیر سرحد پار نہیں کر سکتا"۔

 سوال یہ ہے کہ اس بارڈر کو ایرانی ہی کیوں کنٹرول کرتے ہیں؟ کیا پاکستان کے پاس فورسز کی کمی ہے؟ اگر ایرانیوں کی مرضی کے بغیر کوئی آ جا نہیں سکتا تو پاکستانیوں کی مرضی کے بغیر کیوں آ جا سکتا ہے؟ کیا اوریا صاحب نے یہ جملہ لکھ کر پاکستان کی تعریف کی ہے یا مذمت؟ میرے خیال میں تو یہ پاکستان کی توہین اور اس کی مذمت ہے گوکہ شاید اوریا صاحب کی نیت یہ نہ تھی!! انھوں نے پاکستانی حکومت اور ذمہ دار اداروں پر اپنے فرائض سے غفلت کا الزام لگایا ہے اور میرے خیال میں اس حوالے سے انہیں پاکستانی اداروں کی بازخواست کا جواب دینا چاہئے۔

 

لکھتے ہیں:

"اس لیے کسی بھارتی کا بھیس بدل کر پاکستانی سرحد میں داخل ہونا ایرانی سرحدی عہدیداران جنھیں مرزبان کہتے ہیں، ان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ وہ اسمگلروں کے قافلوں میں گھس کر آ سکتا ہے۔ لیکن یہ اس قدر خطرناک ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسمگلروں نے سدھائے ہوئے اونٹ پالے ہوئے ہیں۔ وہ انھیں افیم وغیرہ کھلاتے ہیں اور پھر بارڈر پر کسی ایسی جگہ سے جالی وغیرہ توڑ کر داخل کرتے ہیں جہاں ایرانی سپاہ کی آمد و رفت کم ہو۔ اونٹ تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے ایرانی سرحد میں موجود کسی گودام کے کھلے گیٹ میں داخل ہو جاتے ہیں، گیٹ بند ہو جاتا ہے، سامان اترتا ہے، لادا جاتا ہے اور اونٹ واپس روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس سارے عرصے میں کوئی اونٹ پر سوار موجود نہیں ہوتا۔ اسی لیے آپ اگر براستہ تفتان ایران میں داخل ہوں تو آپ کو اردگرد صحرا میں پاسداران یا کسٹم حکام کی فائرنگ سے مرے ہوئے اونٹ نظر آئیں گے۔"

 جو غیر ملکی کسی ملک میں کسی سرکاری منصوبے پر کام کرنے کی غرض سے قیام کرتے ہیں ان کے پاس سفارتی کاغذات ہوتے ہیں اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے حامل ہوتے ہیں؛ چنانچہ انہیں بھیس بدل کر آنے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ بغیر ویزا کے سفر کرتے ہیں اور نہ کوئی ملک کو انہیں خارج ہونے سے روک سکتا ہے اور نہ ہی داخل ہونے سے۔ وہ آزادانہ طور پر ایران اور پاکستان کے درمیان آمد و رفت کرتا ہوگا البتہ بشرطیکہ اوریا صاحب کی یہ بات درست ہو کہ بھوشن یادیو واقعی چابہار میں مقیم رہا ہو!! اگر وہ اسمگلروں کے قافلوں میں شامل ہوکر آسکتا ہے تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسمگلروں کے قافلوں کو پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ کیا اسمگلروں کے ساتھ اوریا صاحب کے سابقہ رفقائے کار کا کوئی خفیہ معاہدہ ہے؟ پاکستان میں ان قافلوں کو کس قیمت پر آنے کی اجازت دی جاتی ہے؟ اور ہاں! اسمگلر کیا اسمگل کرتے ہیں اور ان میں سرکاری اداروں کا حصہ کتنا ہے؟ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اوریا صاحب کا یہی ارشاد خود حکومت پاکستان پر لگے الزامات کے زمرے میں نہیں آتا کہ یہاں اسمگلروں کی نقل و حرکت آزاد ہے اور وہ فوجی قافلوں کی طرح ناقابل گرفت ہیں؟

جناب اوریا صاحب کو آفرین ہے کہ انہیں یہاں تک بھی پتہ ہے کہ اسمگلر اونٹوں کو افیم کھلاتے ہیں اور جالیاں کاٹ کر داخل کرتے ہیں اور پھر یہ نشے میں دھت اونٹ اتنے عقلمند ہوتے ہیں کہ سیدھے جاکر کسی گودام کے کھلے دروازے میں داخل ہوتے ہیں اور پھر دروازہ بند ہوجاتا ہے، سامان اتارا اور لادا جاتا ہے اور پھر روانہ کیا جاتا ہے اور پھر وہ نشہ ای اونٹ کٹی ہوئی جالی کا راستہ معلوم کرلیتے ہیں اور سیدھے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور پاکستانی اداروں کی آنکھوں سے دور کہیں کسی گودام میں داخل ہوتے ہیں اور یہ سلسلۂ بدتمیزی یونہی جاری رہتا ہے؟؟؟؟ حیرت ہے اہل قلم سے جو قلم کا سودا دو ٹکوں کے عوض کرتے ہیں اور قلم کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور اپنی بات کی توجیہ کے لئے اوٹ پٹانگ کی باتوں کا سہارا لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جناب اوریا صاحب کے اسمگلروں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ سنا ہے وہ کسی وقت بلوچستان میں سول سرونٹ بھی رہے ہیں یقینا ان کے ان لوگوں سے کافی تعلقات رہے ہونگے۔ وہ اسمگلروں کے کرتوتوں سے اتنے باخبر ہیں تو انھوں نے حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں کیوں بےخبر رکھا ہے؟ اور ہاں! وہ اونٹ پاکستان کے کس حصے سے ٹوٹی ہوئی جالیوں کے ذریعے ایران میں داخل ہوتے ہیں جہاں نہ تو پاکستانی فورسز کا کوئی اتہ پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی ایرانی اہلکاروں کا لیکن اوریا صاحب اور ان کے دوستوں کو یہ سب معلوم ہوتا ہے؟ اور وہ وہاں سے لوٹ کر پاکستان کے کس حصے میں مال اتارتے ہیں؟ یہ معلومات بھی یقینی طور پاکستان کے انسداد منشیات اداروں کے لئے کافی دلچسپ ہونگی۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ ایرانی پاسداران ہی کیوں منشیات کے عادی اونٹوں کو گولی مارتے ہیں؟ کیا پاکستانی حکام ان اونٹوں کے ہمدرد ہیں یا ان کے پاس ہتھیار نہیں ہوتے؟ اور کیا ان اونٹوں سے صرف ایرانیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور پاکستانی ان پر لدے مالے سے بہرہ ور ہوتے ہیں؟ کیا یہ پاکستانی حکومت کی تعریف ہے یا مذمت؟ اگر مذمت ہے تو بھی ان کے منہ کو بند کرنے کی ذمہ داری پاکستانی حکومت اور اس کے اداروں پر عائد ہوتی ہے بشرطیکہ اوریا صاحب کی پشت پر کوئی اوپر والا یا کوئی باہر والا یا کوئی امریکہ نواز اور ایران دشمن دہشت گرد تنظیم نہ ہو!

 

لکھتے ہیں:

"ایران سے پٹرول بھی ایرانی اور پاکستانی حکام کی سرپرستی میں پاکستان میں اسمگل ہوتا ہے۔ سرحد کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپ بنائے گئے ہیں جہاں بلوچ عوام گدھا گاڑیوں پر ٹینکیاں رکھے پٹرول بھرواتے ہیں، پھر انھیں ڈرموں میں ڈال کر پک اپ پر رکھ پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے"۔

 نگاہ اول میں تو یہ بھی ایک بےبنیاد الزام ہے جو لشکروں اور سپاہوں نیز طالبان اور بھارتی و اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کے حامی لکھاریوں کا وطیرہ ہے؛ لیکن اگر یہ بات درست ہو اور پاکستانی اور ایرانی حکام کی سرپرستی میں پٹرول اسمگل ہوتا ہے تو میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی قباحت ہوگی کیونکہ یقینا یہ دو ملکوں کے حکام کی باہمی مفاہمت سے ہوتا ہوگا اور اس کو اسمگلنگ کا نام دینا بھی چنداں درست نظر نہیں آتا کیونکہ جب دو حکومتیں کسی امر پر متفق ہوتی ہیں تو یقینا اس میں دو ملکوں اور عوام کی بھلائی کو مدنظر رکھا گیا ہوگا۔ خاص طور پر بلوچستان کے عوام کی بھلائی کچھ زیادہ واضح نظر آتی ہے جن کو روزگار کے زیادہ ذرائع حاصل نہیں ہیں اور اگلی سطور میں جناب اوریا نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن کہا ہے کہ یہ صرف ایرانی بلوچوں کی مجبوری ہے گویا کہ پاکستانی بلوچوں کی سرزمین میں پیسوں کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور یہاں کے رگستانوں میں گز کے درختوں پر نوٹ اگتے ہیں۔ پاکستان میں آئے ہوئے تیل سے علاقے میں متعین سرکاری ادارے سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں جن میں کسی زمانے میں خود اوریا صاحب بھی شامل تھے۔ چنانچہ کھجور کھا کر کھجور کھانے سے روکنا کم از کم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کی سنت نہیں ہے۔ اوریا صاحب کہتے ہیں:

"ایران میں بسنے والے بلوچ عوام کی یہی گزر بسر اور یہی معاشرتی حیثیت ہے۔ ایران میں ان کی تعداد اتنی ہے جتنی پاکستان میں بلوچوں کی، لیکن کھیتی باڑی، اسمگلنگ اور چھوٹے موٹے کاروبار سے زیادہ انھیں آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا۔ تمام سرکاری عہدوں پر فائز لوگ نسلی ایرانی ہوتے ہیں جو دیگر صوبوں سے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ محفلوں، سرکاری دفاتر اور دیگر جگہوں پر بلوچی بولنا بدتہذیبی کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا قطع تعلق پر ختم ہوتی ہے"۔

 اوریا صاحب کے کسی زمانے میں ایرانی قونصلیٹ کوئٹہ کے ایک بزرگ مقامی کارکن سے اچھے خاصے مراسم تھے اور وہ قونصلیٹ والوں سے بڑے ادب سے ملا کرتے تھے لیکن جتنا وہ توقع رکھتے تھے اتنی ان کی پذیرائی نہیں ہوتی تھی کیونکہ قونصلیٹ میں ان کے مقامی دوست کو بھی کچھ زیادہ مقبولیت حاصل نہیں تھی کیونکہ وہ مترجم کی حیثیت سے ایک ناکام مترجم تھے اور ایرانی سفارتکار ان سے نالاں تھے اور آخر کار انہیں سبکدوش ہونا پڑا تھا چنانچہ اوریا صاحب کے قلم میں ایرانی سفارتکاروں سے شکوے کی جھلک بھی دکھائی دے رہی ہے جس کی وجہ سے وہ انصاف کے تقاضوں سے کہیں دور جاکر ایک مسئلے کو موضوع سخن بناتے ہیں اور اس کے بارے میں کچھ لکھے بغیر ایران اور ایرانی حکومت پر اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہیں جو اوپر کی جانب تھوکنے کے مترادف ہے!

کاش اوریا صاحب کو ایرانی سفارتکاروں کی طرف سے پذیرائی ملتی اور وہ ایرانی بلوچستان کے دورے پر آتے تو انہیں یقینا معلوم ہوتا کہ یہاں کے بلوچستان اور یہاں کے بلوچوں اور پاکستانی بلوچستان اور وہاں کے بلوچوں کی زندگی کی سطح میں کتنا فرق ہے؟ پاکستان سے بےشمار منصف لکھاری اور حکام ایرانی بلوچستان کا دورہ کرچکے ہیں اور اگر ان سے حقیقت حال کے بارے میں استفسار کیا جائے تو یقینا یہ نتیجہ بآسانی حاصل ہوگا کہ اوریا صاحب نے اندھیرے میں تیر مارا ہے "اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی"۔

پاکستان کے مظلوم بلوچوں کی زندگی کا ایران کے متمول اور اعلی سطحی زندگی گذارنے والے بلوچوں سے قیاس، یا للعجب۔ گجرات کے گجر پنجابی صاحب پاکستان کے محنت کش اور غریب بلوچوں کی بےجا نمائندگی کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے اس پار کے بلوچوں کی نمائندگی کی بھی کوشش کررہے ہیں جبکہ وہ خود بلوچستان چھوڑ کے اسلام آباد میں جابسے ہیں۔ ہمیں ان سے یہ سوال پوچھنے کا پورا پورا حق ہے کہ وہ بلوچستان میں مسلح تحریکیں شروغ ہونے کے بعد بلوچوں کو اپنے حال پر چھوڑ کر کیوں اسلام آباد تشریف فرما ہوئے ہیں؟ کیا وجہ یہی نہیں ہے کہ اپنے وسائل کی لوٹ مار پر غضب ناک بلوچ انہیں بھی کیفر کردار تک پہنچانے کے درپے تھے؟ گوکہ میرا نہیں خیال کہ وہ ہمارے اس سوال کا صحیح جواب دینے کے لئے تیار ہونگے! ایران میں نسلی ایرانیوں کی حکمرانی کا الزام لگانے والے نے کبھی آئینہ دیکھنے کی جر‏ئت کی ہے؟ کتنے پاکستانی بلوچوں کو فوج اور سرکاری اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز ہونے کی اجازت دی جاچکی ہے؟ اوریا صاحب ایسے پانچ افراد کا نام تو لیں اور پھر ایران پر بھی الزام لگائیں۔ ایران میں بلوچوں کا حال دیکھنے کے لئے ہم حریت پسند اور غیر جانبدار صحافیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایرانی سفارتی اداروں میں جاکر وہاں کا دورہ کرنے کی درخواست دیں اور پھر آکر اپنی زبان میں اوریا صاحب کی راہنمائی کریں بشرطیکہ ان کا دل پتھر کا نہ ہو اور وہ حق کی بات سننے اور ماننے کے قابل ہوں۔

تمام ممالک کے سرکاری دفاتر میں قومی زبان بولی جاتی ہے جس کی زندہ مثال پاکستانی ادارے ہیں جہاں عام طور پر اردو بولی جاتی ہے اور اگر دو بلوچ آپس میں بلوچی بولیں تو یہ بات محفل کے آداب کے خلاف سمجھی جاتی ہے لیکن اگر کئی بلوچ یا براہوی کسی ادارے میں اکٹھے ہوں تو وہ بےدھڑک اپنی مقامی زبان بولتے ہیں اور یہی حال ایران کا بھی ہے اور دوسرے ممالک میں بھی یہی قاعدہ کارفرما ہے۔ ایران میں سرکاری اداروں کے باہر بلوچ آپس میں بلوچی بولتے ہیں اور ان پر کوئی بھی بدتہذیبی کا الزام نہیں لگاتا اور ان سے کوئی بھی قطع تعلق نہیں کرتا؛ بس بات صرف اتنی ہے کہ یہ سب اوریا صاحب کے مشاہدے کی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ یا تو ان کے ذاتی خیالات ہیں یا پھر کسی بدخواہ مشیر کی باتوں کو وحیِ مُنزَل سمجھنے کا نتیجہ ہے جس کا منطق اور عقل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

اوریا صاحب لکھتے ہیں:

"پاکستان میں  میڈیا پر بیٹھا کوئی مبصر، تجزیہ نگار یا پاکستانی میں ایران کا بلا وجہ دفاع کرنے والااگر یہ دعویٰ کرے کہ چاہ بہار میں مقیم بھارتی را کا ایجنٹ ایرانی حکومت کے اہلکاروں کی مدد کے بغیر بلوچستان میں گھومتا رہا، یہاں سرمایہ اور خاص طور پر اسلحہ بھی فراہم کرتا رہا تو اس جھوٹ پر پاکستان میں آباد باقی لوگ تو یقین کر لیں گے جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے لیکن مند سے لے کر رباط تک پھیلے سات سو کلو میٹر پر مشتمل ایرانی بارڈر کے اس طرف رہنے والے بلوچوں کو یقین نہیں آ سکتا کہ وہ تو روز اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں"۔

 میں نے عرض کیا کہ کوئی ذمہ دار لکھاری کبھی بغیر ثبوت کے کچھ لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اوریا صاحب کی غیر مستند تحریر کا حال یہ ہے کہ وہ 700 کلومیٹر سرحد پر رہنے والے بلوچوں کی ان کہی گواہی کو بحیثیت ثبوت پیش کررہے ہیں اور اوریا صاحب تو بلوچستان جاکر سرحدوں پر بسنے والے بلوچوں سے اس بارے میں رائے پوچھنے کا سوچ تک نہیں سکتے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ وہاں کے عوام کیا جانتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں اور اپنا حق کس سے مانگتے ہیں؟

اس بےبنیاد اور جھوٹے دعوے کے اثبات کے لئے یقینا عدالت پسند ثبوت کی ضرورت ہے اور گوکہ اوریا صاحب سی ایس ایس کا امتحان دیئے بغیر ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز رہے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں کہ ایک مستند صحافی اور لکھاری کبھی ایسی بات نہیں لکھتا جس کو عدالت میں ثابت نہ کیا جاسکے لیکن انھوں نے یہاں بھی زیادہ گوئی اور مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔

 

اوریا صاحب لکھتے ہیں:

"آپ مند سے سفر کرنا شروع کریں، پھر کرک، گراوٹ، ماشخیل، تالاب، تفتان سے ہوتے رباط تک جائیں اور وہاں کی مقامی آبادی سے ایرانی سرحدی گارڈز کی پاکستان میں مداخلت کے بارے میں سوال کریں تو وہاں آپ کو ناقابل یقین باتیں سننے کو ملیں گی۔ کیسے پاکستان کے مفرور قاتل، چور، اسمگلر اور جرائم پیشہ افراد، ایران میں پناہ لیتے ہیں ، کس طرح گلگت بلتستان سے لے کر پاکستان کے چپے چپے سے لوگ وہاں جاتے ہیں۔ بارڈر کے اردگرد رہنے والے بلوچ سب جانتے ہیں کہ زائرین کون ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ کون اور کہاں رہتے ہیں"۔

 اوریا صاحب نے یہاں بھی دور کی ہانکی ہے اور پاکستانی اداروں پر غفلت اور پاکستان کی سالمیت کے حوالے سے ان پر نالائقی کا الزام دھرا ہے حالانکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے پاکستان اور ایران کے سرحدی حکام کے درمیان کافی دوستانہ روابط قائم رہتے ہیں کیونکہ اس کے سوا یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ پاکستان کی تاسیس کے سال سے آج تک دو ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان کوئی چپقلش نہ ہوئی ہوتی جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ایران پاکستان کے آڑے وقتوں کا ساتھی ہے اور پاکستان بھی ایران کا برادر ملک ہے جس کی مثال چند ہی دن قبل ایرانی صدر کا دورہ ایران اور اسلام آباد میں ان کا شاندار استقبال ہے۔ پاکستان کے مفرور قاتلوں، اسمگلروں، چوروں یا جرائم پیشہ افراد کو ایران یا کسی اور ملک میں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے جبکہ بدعنوان افسروں اور اوریا صاحب صاحب کے شناسا افراد یا پھر بدقماش نوابوں، خانوں اور وڈيروں کے ڈیرے ایسے افراد کے خیر مقدم کے لئے ہر وقت کھلے رہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لشکر پاکستان کے اندر بکثرت موجود ہیں جنہیں ان صاحب حیثیت لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے جنہیں جناب اوریا صاحب مجھ سے زیادہ قریب سے جانتے ہیں اور انہیں سلام کرنا کبھی نہیں بھولتے۔ انھوں نے اس بار سرحد پار بلوچوں کی وہمی رائے کو بطور ثبوت پیش کیا ہے جس کا ابھی یہاں کے بلوچوں نے اعلان ہی نہیں کیا ہے! پتہ نہیں انہیں ان کے قلبی رائے کا علم کہاں سے ہوتا ہے؟ کیا ان پر اپنے ہانکے ہوئے مرشد کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے؟ (رجوع کریں: سورہ انعام آیت 121)۔

انھوں نے یہاں اہل تشیع کے خلاف بھی زہر اگلنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے اور گلگت، بلتستان کا نام لے کر الزام لگایا ہے کہ وہاں کے جرائم پیشہ اور قاتل وغیرہ ایران میں بھاگ جاتے ہیں؛ انھوں نے زائرین کو بھی نہیں بخشا ہے اور ان پر بھی جرائم پیشہ اور قاتل اور اسمگلر ہونے کا الزام لگایا ہے! میں صرف یہی چاہوں گا کہ قارئین ان کے افکار سے واقفیت حاصل کریں اور جان لیں کہ وہ ایک متعصب انسان ہیں اور متعصب انسان کبھی منصف نہیں ہوتا۔ چنانچہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہونگا کہ اوریا صاحب صرف اپنے مہربان دہشت گردوں کو خوش کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اگر دہشت گردی کا بازار گرم ہے تو یہ یکطرفہ دہشت گردی ہے اور یہ جناب اوریا صاحب کے ہمفکر اور مہربان ہیں جنہوں نے پورے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا ہے۔

 

اوریا صاحب مزید لکھتے ہیں:

"یہ سب تو گزشتہ تیس سالوں سے چلتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت اور ایران کے رومانس کی کہانی زیادہ پرانی نہیں۔ یوں تو ہندوستان سے ایران کے رشتے اس وقت استوار ہوئے تھے جب سے صفوی بادشاہ تہماسپ نے جلا وطن ہمایوں کو مدد فراہم کی تھی اور اس نے برصغیر کے سب سے قابل حکمران شیر شاہ سوری کے جانشینوں کو شکست دے کر اقتدار واپس حاصل کر لیا تھا۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ تعلق مختلف وجوہ کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ زیادہ مضبوط ہو گیا۔

دونوں ملک سرد جنگ کے زمانے میں امریکا کے ساتھ کھڑے تھے، اس لیے ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا جب کہ بھارت روس اور غیر جانبدار ممالک کی تنظیم سے وابستہ تھا اس لیے بھارت کے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی 15 مارچ 1950ء یعنی آزادی کے تین سال بعد قائم ہوئے۔ انقلاب ایران کے بعد بھارت کے ایران سے تعلقات اچانک بہتر ہوئے اور لکھنؤ اور قم کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم ہوا۔ چونکہ بھارت صدام حسین کے عراق کے ساتھ تھا اس لیے تعلقات میں کمی آئی۔ لیکن کچھ عرصے بعد دونوں ممالک کو ایک نکتے پر اکٹھا ہونا پڑا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت بن گئی جو پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت تھی"۔

 اوریا صاحب نے لکھا ہے کہ یہ رومانس بہت پرانی نہیں ہے اور پھر تضاد گوئی کے اپنے طرز عمل کے مطابق لکھا ہے کہ یہ دوستی کئی سو سال پرانی اور ہمایون کے زمانے کی ہے!! پاکستان کی تاریخ مغلوں کے قصیدہ گوئی سے بھری پڑی ہے اور ہمایون کی تاریخ کو پاکستان کی تاریخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے جس کی اولاد میں جہانگیر اور اورنگزیب جیسے بھی آئے ہیں جن کی اس ملک کی تاریخ مداحی کی گئی ہے؛ ہمایون کے بیٹے کو اکبر اعظم کہا جاتا ہے، جہانگیر کو عالمگیر اور اورنگزیب کو عادل بادشاہ سمجھا جاتا ہے؛ لیکن اوریا صاحب نے پاکستان کے اس تاریخی رویے کی خلاف ورزی صرف اس لئے کی ہے کہ شاہ طہماسب [نہ کہ شاہ تہماسب] نے شیرشاہ سوری کے خلاف ہمایون کی امداد کی تھی اور جناب کو شاید اس وجہ سے زیادہ ہی تکلیف پہنچی ہے کہ شاہ طہماسب نے ہمایون کو مذہب تشیع قبول کرنے کے عوض امداد کی پیشکش کی تو انھوں نے مذہب تشیع کو قبول کرلیا تھا حالانکہ یہ تو سینکڑوں برس قبل کا واقعہ ہے جو تاریخ کا حصہ ہے اور اس کا موجودہ رویوں میں کوئی کردار نہیں ہے اور پھر یہ جناب کا ملک پاکستان ہے جو مغلوں کے وارث ہونے کا دعویدار ہے نہ کہ بھارت! شیرشاہ سوری بھی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور اگر وہ قابل بھی تھے لیکن اپنی بادشاہت کے لئے لڑ رہے تھے اور اس کی جنگ میں اوریا صاحب کے عقیدے کا بھی کوئی عمل دخل نہ تھا اور وہ مغلیہ سلطنت کے دشمن تھے اور مغلیہ سلطنت بھی عقیدے کے لحاظ سے شیرشاہ سوری کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں رکھتی تھی۔

جناب اوریا کہتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر یہ تعلق پاکستان کے ساتھ مضبوط بنا اور پھر خود ہی وضاحت کرتے ہیں کہ "چونکہ دونوں امریکی بلاک میں شامل تھے اسی لئے ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور بھارتی سفارتخانہ تین سال بعد کہیں جاکر ایران میں قائم ہوسکا"۔ وجہ جو بھی ہو ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا اور وہ تمام اسباب فراہم تھے کہ پاکستان اپنے تعلقات ایران کے ساتھ وسیع سے وسیع تر کردے لیکن وہ ایسا نہ کرسکا جس کی وجوہات اوریا صاحب سے ہی پوچھنا بجا ہوگا!

اوریا صاحب حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے اپنے رویئے کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے تعلقات اچانک بھارت کے ساتھ بہتر ہوئے جو سراسر جھوٹ ہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی جمہوری نظام کی بنیاد پڑی تو اس نے اپنا آئین مرتب کیا جس میں اسلامی ممالک کے ساتھ بہتر تعلق کو ایک آرٹیکل کی صورت میں ملک کا فریضہ قرار دیا گیا (رجوع کریں: آرٹیکل 11۔ قانون اساسی اسلامی جمہوریہ ایران)۔

اوریا صاحب لکھنؤ کے قم کے ساتھ تعلق کو تو ایران اور بھارت کے تعلقات کا ثبوت اور ان تعلقات کی اساس قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستان کے شیعہ مدارس کو خاطر میں ہی نہیں لاتے اور ان کے قم کے ساتھ اچھے تعلقات کو ہرگز ہرگز دو ملکوں کے اچھے تعلقات کا مصداق قرار نہیں دیتے جبکہ وہ حکومت پاکستان کی طرف گذشتہ 37 برسوں سے ایران کا بڑھایا ہوا دوستی کا ہاتھ بھی نظر انداز کردیتے ہیں جس کے عوض پاکستان کے امریکہ نواز حکام نے ہمیشہ سردمہری دکھانے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا اور اس سلسلے میں پاکستان کے تمامتر مفادات تک کو قربان کردیا۔

پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبدالوحید کی گواہی کے مطابق ایران پر عراقی جارحیت کے بعد پاکستان نے ایران کے ساتھ تعاون کیا تھا جو ہرگز دو ملکوں کے درمیان دشمنی کی علامت نہیں ہے! ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد اپنا ہاتھ ہمیشہ مسلم ممالک کی طرف بڑھائے رکھا لیکن کم از کم آل سعود اور پاکستان نے کبھی بھی اس موقع کو غنیمت سمجھنے کی ضرورت محسوس نہ کی اور اسلام آباد کے قصر نشینوں نے ہمیشہ امریکی سفارت خانے کے احکامات کو ملکی مفادات پر مقدم رکھتے ہوئے دوستی کی اس پیشکش کو مسترد کیا۔

مسلم ممالک کے ساتھ دوستی کا ثبوت ایران نے بوسنیا، افغانستان اور فلسطین کا مکمل ساتھ دے کر پیش کیا اور آج دنیا بھر میں ایران واحد ملک ہے جو اسرائیل اور امریکہ کے آمنے سامنے کھڑا ہے اور فلسطین کاز اور قبلۂ اول کی آزادی کے لئے عملی جہاد میں شریک فلسطینی تنظیموں اور فلسطین کے حامی ممالک یعنی لبنا اور شام کی بھرپور مدد کررہا ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے ایران کو اپنی تزویری گہرائی یا Strategic Depth سمجھتا رہا تھا کیونکہ افغان حکومت ہمیشہ سے بھارت کی حلیف تھی اور بھارت پاکستان کا دشمن تھا اور "دشمن کا دوست، دشمن ہوتا ہے" کے قاعدے کے تحت افغانستان بھی پاکستان کا دشمن سمجھا جاتا تھا۔

 افغانستان طالبان کی حکومت پاکستان نے بنائی تو "یہ بڑا تیر مارنے پر" پاکستانی حکمران جذباتی ہوئے اور وہ افغانستان کو اپنی ملکیت سمجھنے لگے اور اوریا صاحب تو آج بھی اس کو اپنی ملکیت سمجھ رہے ہیں، طالبان کی پیشقدمی کے لئے پاکستانی طیاروں نے وسیع کارپٹ بمباریاں کرکے کئی علاقوں کے آبادیاں مسمار کردیں اور مختلف قسم کی گیسیں استعمال کرکے بڑی آبادیوں کو موت کے نیند سلا دیا اور سادہ لوح طالبان کو جو پیشقدمی کرتے ہوئے بےشمار مردوں، عورتوں اور بچوں کی نیل پڑی لاشوں کو دیکھا تو کہنے لگے "دیکھیں کس قدر مقدس مشن پر نکلے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو ہمارے آنے سے پہلے ہی خدا نے ہلاک کر ڈالا ہے!!"۔ بمباریوں کا مقصد یہ تھا کہ طالبان جلد از جلد کابل تک پہنچیں اور 1996 میں جب طالبان پہلی بار مزار شریف پہنچے تو پاکستانی وزیر داخلہ نے جلدبازی میں وہاں کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ نے ترکمنستان اور تاجیکستان سے بجلی اور گیس کے معاہدے کرنے شروع کئے لیکن بہت جلد کایا پلٹ گئی اور طالبان کو مزارشریف سے پسپا ہونا پڑا اور دوسرے مرحلے میں پھر بھی حکومت پاکستان نے افغانستان کے بپھرے ہوئے دریا کو فوجی طاقت سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن بند ٹوٹ گیا اور وہی طالبان جو اوریا صاحب کے بقول پاکستان کے لئے ایک نعمت تھے، ـ وہی جن کو امریکہ اور عربوں کی حمایت بھی حاصل تھی ـ نے پاکستان کا رخ کیا۔ بپھرے ہوئے دریا کا پانی پاکستان پہنچ چکا تھا اور اوریا صاحب کے ہم فکر طالبان پاکستانی طالبان کے عنوان سے اس ملک میں فعال ہوچکے تھے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اوریا صاحب جیسوں کی اس عظیم تاریخی غلطی کا خمیازہ آج بھی پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے گوکہ طالبان کے حق میں قلم فرسائی کرنے والے لوگ بظاہر اس طوفان سے محفوظ ہیں۔

پاکستان نے اپنے ہی جرنیلوں اور کرنیلوں کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کے لئے آج تک بڑی قیمت چکائی ہے گوکہ اس کو کچھ رقم اپنے "تزویری دوست امریکہ" سے ملتی رہی ہے۔ بہر حال طالبان حکومت درحقیقت پاکستانی کرنلوں کی حکومت تھی ورنہ افغانستان کے محب وطن طالبان آج بھی دوسرے افغان قوم پرستوں کی مانند پاکستان کے شدید ترین مخالفین میں شامل ہیں۔

ایران افغانستان کا مغربی پڑوسی ملک ہے بھارت کے بھی اپنے مفادات ہونگے جو یقینا ایران کے ساتھ یکساں نہیں ہیں۔ بھارت کی پرانی پالیسی ہے کہ "پڑوسی کے پڑوسی سے دوستی کرو تاکہ ضرورت کے وقت پڑوسی کو بلیک میل کرسکو اور اس سے اپنے مقاصد حاصل کرسکو" جبکہ ایران افغانستان کا مغربی پڑوسی ملک ہے اور اس کو براہ راست طالبان کی انتہا پسندی اور فرقہ پرستی سے خطرہ لاحق تھا اور اگر اوریا صاحب کو یاد ہو تو طالبان نے پاکستان ہی کے اہٹمی ہتھیاروں کے بل بوتے پر ایران کو اہٹمی حملوں کی دھمکی بھی تھی اور پھر طالبان "یا پھر ان کے پاکستانی حامیوں نے" مزار شریف میں ایک نامہ نگار سمیت 11 ایرانی سفارتکاروں کو بےدردی سے قتل کیا تھا جو تعلقات کی خرابی کے لئے کافی شافی سبب سمجھا جاتا ہے۔ 

بھارت پاکستان کا دشمن ہے اور پاکستان بھارت کا دشمن ہے تو کیا پوری دنیا کو بھی بھارت یا پاکستان کا دشمن ہونا چاہئے؟ پاکستان کی خاطر بھارت کی دشمنی کئی بار ایران نے مول لی ہے۔ پاک بھارت کے درمیان جنگوں میں ایران کا کردار اوریا صاحب تو کیا، کوئی بھی نہیں جھٹلا سکتا اور یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان بھی ضرورت کے وقت ایران کے ساتھ دوستی کا ثبوت دیتا رہتا تھا؛ مگر جب مغرب نے ایران پر ظالمانہ پابندیاں لگائیں تو پاکستان نے دوست اور برادر پڑوسی ملک کے ساتھ پڑوس کے آداب کا بھی پاس نہیں رکھا اور مغرب کی صف میں شامل ہوا جبکہ بھارت نے اوریا صاحب کے اعتراف کے مطابق ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے یا یوں سمجھئے کہ بھارت نے آڑے وقتوں میں ایران کا ساتھ دیا اور پاکستان نے حتی اپنے مفادات تک کو قربان کرکے مغرب کی خوشنودی کے حصول کو مطمع نظر بنایا۔ بایں وجود ان ہی برسوں میں ایران پاکستان سے سینکڑوں ٹن چاول خرید رہا تھا لیکن بدعنوان سرکاری اہلکاروں اور تاجروں نے چاول میں ملاوٹ کرنا شروع کردی اور اس میں مضر صحت مواد شامل کرنا شروع کیا جس کی وجہ سے ایران کو پاکستانی چاول کی درآمدات پر پابندی عائد کرنا پڑی اور یوں بھارتی چاول نے پاکستانی چاول کی جگہ لے لی؛ اب آپ بتائیے کہ قصور کس کا ہے؟ کیا ایران کو چشم پوشی کرکے مضر صحت پاکستانی چاول خریدنے کا عمل جاری رکھنا چاہئے تھا یا پھر اس کو اپنی ضرورت کی اشیاء درآمد کرنے کا سلسلہ ہی بند کرنا چاہئے تھا؟

 

اوریا صاحب لکھتے ہیں:

"گزشتہ ڈیڑھ سو سال بعد پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہوا تھا۔ طالبان کی حکومت کی مخالفت میں ایران شمالی اتحاد کی ہر طریقے سے مدد کر رہا تھا۔ بھارت بھی افغانستان میں طالبان کی شکست چاہتا تھا۔ یہاں سے بھارت اور ایران کا وہ رشتہ مستحکم ہوا جس میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔ شمالی اتحاد کو ہر طرح کی امداد تین ملکوں سے میسر تھی، بھارت، ایران اور امریکا، تینوں کا یہ خفیہ معاشقہ کئی سال چلتا رہا۔ یہی وہ دور تھا جب ایرانی سفارت کاروں کے روپ میں پاسداران باقاعدہ افغانستان میں ٹریننگ دیتے"۔

اوریا صاحب جیسوں کا خیال تھا کہ افغانستان پر قبضہ کرکے اس کی مغربی سرحد محفوظ ہوجائے گی جبکہ یہ سرحد گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے بھی کبھی غیر محفوظ نہیں رہی اور افغانستان نے کبھی بھی پاکستان پر جارحیت نہیں کی تھی لیکن اگر طالبان حکومت پاکستان کے قبضے میں تھی اور بقول اوریا صاحب پاکستان کی سرحدیں ڈیڑھ سو سال بعد پہلی بار محفوظ ہوئی تھی، تو ان ہی طالبان نے ایران کے ساتھ اپنی دشمنی کا واضح پیغام دے دیا تھا چنانچہ کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کی معشوق طالبان حکومت ایران کے لئے معشوق کا کردار ادا کرسکتی تھی۔

دنیا میں کسی بھی ملک کو اپنے پڑوس میں ایک غیر فطری دشمن حکومت کی ریشہ دوانیاں روکنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور پاکستان کا مفاد اگر کسی پڑوسی ملک کے نقصان میں ہو تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد کی خاطر اپنے نقصانات پر خاموشی اختیار کرے۔

عرض ہوا کہ یقینا بھارت کے بھی افغانستان میں مفادات ہونگے جس طرح کہ پاکستان اور ایران کے بھی اپنے اپنے مفادات ہیں لیکن یہ نہایت نامعقول تصور ہے کہ تمام ممالک کے مفادات کی نوعیت یکسان ہو۔ ورنہ تو ایران اور بھارت بھی شکوہ کرسکتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں ان کے مفادات کو پامال کرنے کا اہتمام کیوں کیا؟

یہ بالکل غلط ہے کہ طالبان کی حکومت کو ہٹانے کا مقصد ایران اور بھارت کے قریب آنے کا سبب بنا اور اگر ان دو ملکوں کے درمیان رشتے مضبوط سے مضبوط تر ہورہے ہیں تو پاکستان کو بھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ اس کی وجہ اسی کی ناپختہ اور عجلت زدہ پالیسیاں بھی تو ہیں۔ پاکستان ایران کی خارجہ پالیسی میں بھارت کا متبادل ہوسکتا تھا لیکن اس نے کبھی بھی ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی۔

دنیا جانتی ہے کہ ایران امریکہ کا اور امریکہ ایران کا واحد دشمن ہے چنانچہ ان کے درمیان معاشقے والی بات اوریا صاحب کی مبالغہ آرائی اور غلو نگاری کے زمرے میں آتی ہے اور بہت حیرت کی بات ہے کہ وہ بھول چکے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم جیسے گمنام لوگ بھی بھول چکے ہونگے کہ یہ تو پاکستان اور امریکہ کا معاشقہ تھا جس کے نتیجے میں اوریا صاحب کے محبوب طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔

ایران نے اس دور میں "غیر فطری" طالبان حکومت کے خلاف افغان افواج کو تربیت دی اور یہ کوئی خفیہ بات نہیں تھی اور بین الاقوامی سطح پر اس کام کو جائز قرار دیا جاتا رہا کیونکہ ایران کو طالبان سے خطرہ تھا یہ پھر پاکستانی حکام نے یہ کامیابی سے جتا دیا تھا کہ طالبان پاکستان کے دوست ہیں اور اب افغانستان کے فیصلے صرف اور صرف اسلام آباد میں ہونگے گویا افغانستان کے دوسرے پڑوسی ممالک سوئے ہوئے ہیں اور وہ بڑی آسانی سے پاکستان کے بعض حکام کی ناعاقبت اندیشیوں کے سامنے خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہیں گے! جو کہ نامعقول توقع ہے۔

جہاں تک ایران، امریکہ اور بھارت کے معاشقے کا تعلق ہے تو یہ بلاشک غیر ذمہ دارانہ دعوی ہے جس کی طرف اوپر کی سطور میں اشارہ ہوا لیکن یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ ریٹائرڈ جنرل کالین پاول نے صدر پاکستان کو فون کیا اور انہیں افغانستان پر امریکی حملے کے منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے ان پر سات شرطیں رکھ لیں اور کہا کہ اگر پاکستان یہ شرطیں نہ مانے تو اس کے ساتھ بھی افغانستان جیسا سلوک ہونا بعید از قیاس نہ ہوگا اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنرل مشرف نے امریکی وزیر خارجہ کو پورے پورے تعاون کا یقین دلایا اور کہا پاکستان کی پوری سرزمین امریکی افواج کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے اور یوں امریکہ نہ پاکستان کے ساتھ مل کر طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا نہ کہ ایران کے ساتھ معاشقہ کرکے؛ اوریا صاحب خود بتائیں کہ کیا ایسا نہیں تھا؟

 

لکھتے ہیں:

"گیارہ ستمبر کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو کامیابی کے بعد ایرانی پاسداران کے سربراہ نے بیان دیا تھا کہ ہم امریکیوں کے شانہ بشانہ طالبان کے خلاف لڑے تھے۔ فتح کے بعد ایران نے بیس ہزار افغانی سپاہیوں کو ٹریننگ دی۔ باربرا سلاون Barbra Slavin کی فتح کی وہ تفصیلی رپورٹ کہ کس طرح ایران نے افغانستان میں موجود طالبان کے بارے میں نیٹو اور امریکا کو معلومات فراہم کیں اور بھاگنے والے القاعدہ کے رہنماؤں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا"۔

 یہ تو معلوم نہیں ہے کہ اوریا صاحب کے قارئین ان سے ان کے دعوؤں کے ثبوت بھی مانگتے ہیں یا نہیں؟ لیکن جیسا کہ عرض ہوا امریکہ نے پاکستانی سرزمین سے طالبان حکومت پر حملے کئے، پاکستان کے تمام ہوائی اڈے امریکہ کے سپرد تھے۔ امریکیوں کی موجودگی کی وجہ سے کوئٹہ آنی والی ہفتہ وار ایرانی پرواز ہمیشہ کے لئے بند ہوئی، دالبندین ہوائی اڈہ، پسنی کا ہوائی اڈہ، جیکب آباد ایئرپورٹ اور پشاور میں بعض اڈوں سمیت کئی دوسرے اڈے امریکہ کے سپرد تھے اور کم از کم سنہ 2014 تک کراچی کی بندرگاہ سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ٹرکوں اور ٹینکروں کے ذریعے امریکیوں کے لئے سامان رسد کی ترسیل کا کام جاری رہا ہے۔ بےشمار ٹینکروں کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں نذر آتش کرنے کے واقعات سے تو اوریا صاحب ضرورتاً آگاہ ہونگے  اور انہیں معلوم ہوگا کہ ان گاڑیوں کو جلانے والے کون تھے اور ان کے جلائے جانے کے اسباب کیا تھے؟

ایرانی پاسداران کے امریکہ کی صفوں میں لڑنے کا اوریا صاحب کا دعوی من گھڑت اور جھوٹ ہے جس کا انھوں نے کوئی ثبوت بھی نہیں دیا ہے۔ 

ایران نے طالبان کے بعد امریکہ اور اس کے حلیفوں کے ہاتھوں ویراں شدہ افغانستان کی پولیس کو تربیت دی تو اس میں برائی کیا ہے جناب اوریا صاحب؟ یہ تو ایک ذمہ دار پڑوسی ملک کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے وقتوں میں پڑوسیوں کی مدد کریں۔

باربرا سلاوین Barbra Slavin کی رپورٹ میں نے پڑھ لی تو اس میں جناب کا دعوی کہیں نظر نہیں آیا باربرا نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے القاعدہ کے دہشت گردوں کے عوض عراق سے مجاہدین خلق کے دہشت گردوں کو اس ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا تو امریکہ نے انکار کیا اور مجاہدین خلق کے دہشت گردوں کو ایرانی سائنسدانوں پر دہشت گردانہ حملوں کی تربیت کے لئے امریکہ منتقل کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوریا صاحب کے من گھڑت دعوے کے برعکس ایران اور امریکہ کے درمیان نہ صرف کوئی معاشقہ نہیں چلا بلکہ امریکہ ہمیشہ کی طرح ایران کا دشمن تھا اور اس نے اس مسئلے میں دشمنی ہی کا ثبوت دیا۔

معلوم نہیں کہ جناب اوریا نے اس مضمون کو پڑھا بھی یا پھر اس کا عنوان دیکھ کر نتیجہ اخذ کیا کہ ایران نے القاعدہ کے کارکنوں کو امریکہ کے حوالے کیا تھا یا پھر انھوں نے ایمل کانسی اور رمزی یوسف سمیت کئی پاکستانی باشندوں نیز عرب اور غیر عرب دہشت گردوں سمیت متعدد افراد کی پاکستان میں گرفتاری اور امریکہ کی تحویل میں دیئے جانے کی خبریں پڑھتے ہوئے پاکستان کے بجائے ایران کا نام پڑھ لیا ہے! 

باربرا کی رپورٹ میں مجھے یہ بات کہیں نظر نہیں آئی کہ ایران نے نیٹو اور امریکہ کو طالبان کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں جبکہ چونکہ طالبان تو پاکستان کے تعینات کردہ تھے اور منبع : شیعه خبر آلودہ قلم علم کا سرچشمہ نہیں ہوسکتا
برچسب ها : پاکستان ,نہیں ,اوریا ,صاحب ,بھارت ,کوئی ,اوریا صاحب ,جناب اوریا ,دہشت گردی ,طالبان حکومت ,شمالی اتحاد ,ظریف شمالی اتحاد ,ایرانی نمایندہ جاوید ,گی

نظر سنجی "لا" را کلیک کنید

:: نظر سنجی "لا" را کلیک کنید
از تمامی دوستان درخواست میشود در نظرسنجی شبکه RT درباره حزب الله لبنان شرکت کنند

 

 

https://arabic.rt.com/votings/813297-%D8%AD%D8%B2%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D9%85%D9%86%D8%B8%D9%85%D8%A9-%D8%A5%D8%B1%D9%87%D8%A7%D8%A8%D9%8A%D8%A9/ 

منبع : شیعه خبر نظر سنجی "لا" را کلیک کنید
برچسب ها : الله

یہودیت اور وہابیت کے درمیان اشتراکات

:: یہودیت اور وہابیت کے درمیان اشتراکات

ان تشابہات کی بنیاد ابن تیمیہ الحرانی کی گمراہ کن تعلیمات ہیں:

1۔ وہابیت کا شیخ اعظم ابن تیمیہ کہتا ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے میں کچھ یہودی ربی (Rabbi) آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اللہ کی تجسیم کا عقیدہ آپ(ص) کے سامنے رکھا؛ آپ(ص) نے ان کے عقیدے کی تصدیق کی!!!!!

چنانچہ عقیدۂ تجسیم (یا اللہ کے جسم ہونے کے عقیدے) میں یہودیوں اور وہابیوں کے درمیان مشابہت پائی جاتی ہے۔

2۔ ابن تیمیہ کہتا ہے: تورات کا دستیاب نسخہ "صحیح" [اور غیر تحریف شدہ] اور مسلمانوں کےل ئے حجت ہے سوائے اس ایک عبارت کے کہ "عزیر خدا کا بیٹا ہے"۔

یہودی بھی تورات کو صحیح اور ان کا کہنا ہے یہ کتاب پوری دنیا کے لئے حجت ہے!!!!! یہ ہوا دوسرا نقطۂ اشتراک۔

3۔ ابن تیمیہ پوری گستاخی کے ساتھ یہود کا دفاع کرتا ہے اور کہتا ہے: "تمام یہودیوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے"۔ اس نے پوری قوت کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہمجنس بازی جائز ہے چنانچہ قوم یہود پر واجب ہے کہ ابن تیمیہ کا شکریہ ادا کریں کیونکہ وہ ابن تیمیہ ہی کے وارث ہیں۔

4۔ ابن تیمیہ کہتا ہے: یہودی ہرگز جھوٹ نہیں بولتے اور تحریف سے بیزار ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو رسول خدا(ص) ان کا انکار کردیتے!! پس ان کے اکابرین کی تمام باتیں صحیح ہیں سوائے فنحاص بن عازورا اور بعض دوسرے افراد۔۔۔

5۔ وہابی کہتے ہیں: جو کچھ قرآن میں نازل ہوا ہے وہ تورات کے عین مطابق و موافق ہے! واضح و آشکار ہے کہ ابن تیمیہ نے "مطابق اور موافق" جیسے الفاظ استعمال کرکے مبالغہ کیا ہے اور صاحب دانش لوگ اس کا مطلب بخوبی سمجھتے ہیں۔

6۔ وہ یہودیوں کی مانند اللہ کی تجسیم (جسم ہونے) کے قائل ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے دو پیغمبروں (یعنی حضرت موسی اور حضرت محمد (ص)) کا کلام اور دو کتابوں (یعنی تورات اور قرآن) کی عبارات سے ثابت ہے کہ اللہ جسم ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دو نبیوں کے درمیان انقطاع معرض وجود میں آتا!!!!!

7۔ یہودی بھی اور وہابی بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیاء سب اللہ کی تجسیم کے قائل تھے!!!!!

8۔ وہابیت یہودیوں کو تورات کی تحریف سے بری الذمہ قرار دیتی ہے کیونکہ "یہودی ایک بڑی امت کو تشکیل دیتے ہیں جو مشرق اور مغرب میں پھیلے ہوئے ہیں اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ اتنی بڑی امت جھوٹ بولے!!!!"۔

یہودیوں کی تعظیم و تکریم میں یہ وہابیوں کا بڑا جھوٹ ہے ۔۔۔ وہابیت کے اس عقیدہ کے بارے میں زيادہ مطالعہ کرنا ہو تو ابن تیمیہ کی کتاب "درء تعارض العقل والنقل" صفحہ 88 سے رجوع کریں۔۔۔۔

 

تعلیق:

مزید یہ کہ وہابیوں نے حدود سے تجاوز کیا ہے اور اسلام اور یہودیت سمیت ابراہیمی ادیان میں محارم کے ساتھ نکاح حرام ہے لیکن وہابی مفتی "محمد العریفی" نے جب ایک دن میں دسوں افراد کے ساتھ ایک عورت کے جہاد النکاح کا فتوی دیا تو دوسری مفتی "ناصر العمر" نے اس کی تکمیل کرتے ہوئے محرم خواتین کے ساتھ جہاد النکاح کا فتوی جاری کیا اب یہ سمجھنا قارئین کا کام ہے کہ شیعہ یہودیت کی پیداوار ہیں یا وہابی؛ جن کے سیاسی موقف کا اعلان بھی تل ابیب سے ہوتا ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ماخذ: http://valiasr-aj.com/fa/page.php?bank=shobheh&id=34

ترجمہ و تعلیق: ف۔ح۔مہدوی

منبع : شیعه خبر یہودیت اور وہابیت کے درمیان اشتراکات
برچسب ها : تیمیہ ,اللہ ,تورات ,ساتھ ,یہودیوں ,عقیدہ ,تیمیہ کہتا ,جہاد النکاح

شیعہ ـ یہودی رشتہ ایک باطل تصور؛ وہابی ـ یہودی یگانگت ایک زمینی حقیقت

:: شیعہ ـ یہودی رشتہ ایک باطل تصور؛ وہابی ـ یہودی یگانگت ایک زمینی حقیقت

 

میں سمجھتا تھا کہ اس زمانے میں جبکہ نکاح مسیار کی بدعت عام ہوچکی ہے، وہابی شرم کے مارے سر جھکا کر متعۃ النکاح پر طعنہ زنی چھوڑ دیں گے مگر وہ گویا شرم پروف دکھائی دیئے اور اپنی طعنہ زنی پر مُصِرّ رہے۔۔۔۔ وقت گذرتا گیا دنیائے عرب میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کا آغاز ہوا تو سمجھنے لگا کہ یہ لوگ اب پیچھے ہٹیں گے اور اپنی ناداشتہ آبرو کا تحفظ کرکے لوٹی ہوئی دولت کے سہارے پرسکون زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے یورپ یا امریکہ کے کسی شہر میں عیاشی کریں گے لیکن گویا کہ حکومت کا مزہ ترک کرنا ان کے لئے آسان نہ تھا چنانچہ خود تو وہ کوئی منصوبہ بندی نہیں کرسکتے تھے انگریزوں اور امریکیوں اور در پردہ اسرائیلی مشیروں سے فائدہ اٹھایا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر دوسری عرب ریاستوں میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کا خاتمہ کیا لیکن شام کی جنگ ختم ہونے کو نہ آئی کیونکہ شام ایک شاہی ملک نہ تھا بلکہ عالمی اسلامی مزاحمت تحریک کی فرنٹ لائن ریاست کے عنوان سے اس نے کانٹے دار مقابلہ کیا اور جنگ طویل ہوئی یہاں تک کہ اس نے وہابیت کی اندرونی غلاظتوں کو طشت از بم کیا جن میں سے ایک "جہاد النکاح" ہے۔ جہاد النکاح میں ماں بہن کے ساتھ بھی ناجائز تعلق برقرار کیا جاسکتا ہے اور اس کے مفتی بھی آج کے زمانے میں بڑے مشہور ہوئے ہیں اپنے فتؤوں کی وجہ سے۔۔۔۔
جہاد النکاح کی کیفیت کیا ہے: ایک عورت کو صرف "اللہ اکبر" کہہ کر وحشیوں کی طرح بھنبھوڑنا اور یہ کہ وہ شخص نکلے تو دوسرا آئے اور پھر تیسرا اور چوتھا اور جہاد النکاح کے تجربے سے گذرنے والی عورتوں کے مکالمات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ایک ہزار سے زائد مردوں کے بستر کی زینت بننا پڑا ہے اور اب وہ حاملہ ہیں لیکن ان کو معلوم نہیں ہے کہ پیٹ میں بچے کا باپ کون ہے۔۔۔۔ اس عظیم بےشرمی کے بعد اندازہ لگایا جاتا تھا کہ یہ لوگ کم از کم جہاد النکاح کی بدعت کے بعد قرآن و حدیث سے ثابت شدہ سنت "متعۃ النکاح" کے خلاف ہرزہ سرائی بند کریں گے لیکن وہ شرم پروف جو ہوئے۔۔۔
اور ہاں بات یہ ہورہی تھی کہ وہابی جب استدلال کی بازی ہارتے ہیں تو یہ کہہ کر اپنے دل کو سکون دیتے ہیں کہ "یار شیعہ تو یہودیت کی پیداوار ہیں" اور البتہ کبھی بھی اس دعوے کے اثبات کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہابی میڈیا بدتمیزی کی وسعت اور طاقت میں یہی بات دہرا دہرا کر مسلمانوں کو اس بات کا قائل بنانا چنداں بھی مشکل نہیں ہے کہ شیعیت یہودیت کی پیداوار ہیں۔
وہابیت کا یہ دعوی ایسے وقت سامنے آیا جب اس نے آل سعود کی مدد سے اپنا پرچم جزیرہ نمائے عرب اور حجاز کی مقدس سرزمین پر لہرادیا اور یہ بالکل وہی زمانہ تھا جب انگریزوں نے حجاز میں سعودیوں کو برسر اقتدار لانے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی حکومت بھی فلسطین کی سرزمین پر قائم کردی۔۔۔ اور اسی زمانے میں جب ان دونوں حکومتوں کا بانی انگریز بہادر تھا اور ان کی تاسیس کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ علاقے میں انگریز نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل ابھرنے اور علاقے کے ممالک کی نئی زمرہ بندی کے بعد اس کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔
اس کے باوجود کہ ـ یہ دونوں ریاستیں ایک مقصد کے لئے ایک ہی زمانے میں بن گئی تھیں اور دونوں کا مقصد ایک ہی تھا اور دونوں ریاستوں کو تشیع کا راستہ روکنے کا ٹاسک دیا گیا تھا کیونکہ انگریز سرکار سمجھتی تھی کہ شیعہ مذہب کے پیروکار ہی اس کے راستے کی رکاوٹ ہیں ـ انگریزوں ہی کے کہنے پر مذہب شیعہ کے خلاف تشہیری مہم کا آغاز کیا گیا اور انگریز، یہودی ریاست اور سعودی ریاست نیز وہابی مبلغین نے یک زبان ہوکر مشہور کرایا کہ شیعیت یہودیت کی پیداوار ہے!!!! چلئے ایک بات جب بہت زیادہ مشہور ہوجائے تو ممکن ہے کہ لوگ باور کریں۔۔۔ لیکن جھوٹ کا سفر کچھ زیادہ طویل نہیں ہوسکتا ۔۔۔
اسلامی بیداری کی تحریک شروع ہوئی تو آل سعود، قطر کے حکمران خاندان آل ثانی، امارات کے حکمران خاندان آل نہیان، کویت کے حکمران خاندان آل صباح، اردن کے حکمران نام نہاد ہاشمی خاندان کو جان کی پڑگئی چنانچہ انھوں نے یہودی ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات کو برملا کرنا شروع کیا کیونکہ وہ اس طرح امریکہ اور یورپ کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرسکتے تھے اور چونکہ یہ حکومتیں غاصب تھیں اور انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں تھی اسی لئے انہیں بیرونی حمایت کی ضرورت تھی اسی لئے انھوں نے یہودی ریاست کے ساتھ اپنے تعلق کو زیادہ سے زیادہ برملا کیا اور ایک سے زیادہ مرتبہ کہا کہ "وہ اسرائیل کو ایران پر اور یہودیت کو شیعیت پر مقدم رکھتے ہیں"؛ وہابیت لوگوں کی نادانی پر سوار ہوکر ہر جگہ طوفان برپا کئے ہوئے ہے اور اس کے پیروکار دنیا بھر کے امن کو غارت کئے ہوئے ہیں اور وہی اپنی حماقت کی وجہ سے آج بھی تشیع کو یہودیت سے جوڑنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ جبکہ ان کے مفتیوں نے یہودیت کی اعلانیہ خدمت کے ٹھیکے اٹھائے ہوئے ہیں اور سعودی خاندان سمیت خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے تمام حکمران یہودی ریاست کی خدمت میں کوئی دفیقہ فروگذاشت نہیں کرتے، آج کی دنیا میں ان کی یہ تشہیری مہم مزید کارآمد نہیں ہے۔۔۔
ہاں یہودی وہابی منحوس رشتے کے طشت از بام ہونے سے پہلے بھی ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا اور اس کے بعد بھی وہ اپنا دعوی ثابت کرنے کے لئے چھٹکلوں کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔
شیعہ پہلے سے جانتے تھے کہ وہابی اور یہودی ایک ہیں لیکن آج سنی بھی جان گئے ہیں کہ حقیقت کیا ہے؟
آج سعودی حکومت دنیا بھر میں دہشت گردی کا منبع سمجھی جاتی ہے اور دنیا کے جھوٹے حکمران اور انسانی حقوق اور جمہوریت کے جھوٹے مغربی دعویدار اور حتی کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بھی اس کے جرائم پر خاموش تماشائی ہی نہیں بلکہ سعودی حکومت کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی سربراہی سونپ دی گئی ہے اور یمن جیسے غریب ملک پر 10 مہینوں سے مسلط کردہ سعودی دہشت گردانہ جنگ میں سعودیوں کا ساتھ دیا جارہا ہے اور بےشرمی کی انتہا دیکھئے کہ آج ایران، عراق اور شام کو نکال کر سعودیوں نے 34 ملکی فرقہ وارانہ اتحاد کا اعلان کیا ہے جس کے مقاصد سے سب آگاہ ہیں اور اس کا ہدف ایران، عراق اور شام ہی ہیں جبکہ سنیوں کے ملک فلسطین پر یہودی ریاست کا غاصبانہ قبضہ اور اس کے عوام پر یہودیوں کے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن آل سعود کا اتحاد ان کی طرف دشمن کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور ایران کو دشمن کے طور پر دیکھتا ہے جس نے کسی کے خلاف کہیں بھی جارحیت نہیں کی، شیعہ سنی اتحاد کا عالمی داعی ہے اور اسلامی مزاحمت تحریک کا رہبر ہے۔۔۔
کیا اب بھی وہابی یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ یہودی ریاست کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے میں مزاحمت تحریک کے میدان میں تن تنہا سینہ سپر کرنے والے اور قبلۂ اول کے واحد مدافع شیعہ یہودیت کی پیداوار ہیں اور یہودی ریاست کے ساتھ میں ایک ہی صف میں کھڑے ہونے والے اسلام کے شیدائی ہیں؟
کیا اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کا وقت نہیں آیا کہ امریکہ سنی مذہب کے نام پر قائم کردہ اتحاد کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ کیا اس کو سنی عزیز ہیں؟ کیا وہ صہیونی ریاست کے تحفظ کے بغیر کسی اور مقصد سے اس نام نہاد سنی اتحاد کی حمایت کررہا ہے؟
اس کے دامن پر سنیوں کے خون کے چھینٹے انہیں نظر نہیں آرہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: ف۔ح۔مہدوی

منبع : شیعه خبر شیعہ ـ یہودی رشتہ ایک باطل تصور؛ وہابی ـ یہودی یگانگت ایک زمینی حقیقت
برچسب ها : نہیں ,یہودی ,ریاست ,وہابی ,لیکن ,یہودیت ,یہودی ریاست ,جہاد النکاح ,اسلامی بیداری ,حکمران خاندان ,مزاحمت تحریک ,اسلامی مزاحمت تحریک

ندانم، آیا مجلس ترحیم کافی است؟

:: ندانم، آیا مجلس ترحیم کافی است؟

خبر:
"مراسم ترحیم مهاجر الی الله سردار علی اصغر فولادگر با حضور جمعی از مقامات و مسئولین کشوری و لشکری عصر یکشنبه بیست و هفتم دی ماه در مسجد امیرالمومنین (ع) شهرک شهید محلاتی برگزار شد.سردار سرلشکر سید یحیی صفوی دستیار و مشاور عالی فرمانده معظم کل قوا گفت:سردار فولادگر در اندیشه و تعقل دارای جهان بینی بود، بصیرت سیاسی داشت و متوسل به قرآن و اهل بیت بود".
سردار شهید! من من نمی دانم که آیا مجلس ترحیم کافی است؟
سلام بر سردار فولادگر و دکتر غضنفر رکن آبادی و سایر سرداران مقاومت که مظلومانه به شهادت رسیدند و ما برایشان مجلس ترحیم گرفتیم به نظر من گویا کافی نیست ... 
این فقط یک تصور نیست بلکه عین واقعیت است که من درک نمی کنم که برای سرداران مقاومت که اینگونه مظلومانه به شهادت می رسند چکار باید کرد؟ آنها در تصادف یا بر اثر تب یا کهولت سن یا به هر علت طبیعی دیگر از دنیا نرفته اند بلکه به دلیل ایفای نقش در مقاومت اسلامی به دست نامرد ترین دشمن مقاومت به قتل رسیده اند؛ همان هایی که نه فقط خود را مسلمان می دانند بلکه جز خود کسی را مسلمان نمی دانند.
آیا مراسم ترحیم کافی است؟ آیا کار دیگری که من درک نمی کنم نباید انجام داد؟
من که کوته فکر هستم گاهی می اندیشم که حد اقل کاری که می توان برای اینها انجام داد این است که انتقام خونشان را بگیریم و امنیت را برای بقیه سرداران که به مانند این مکان برای ادای فرایض می روند از تعرض خونخواران زشت خوی مصون بمانند؛ نظر شما چیست؟
یا این که باید این را به قول آل سعود خواسته تقدیر قلمداد کنیم و با یک فاتحه و سخنرانی و مداحی و قرآن خوانی از هرگونه مسئولیت دیگر رها شویم... اگرچه این موضوع در مورد کشتار حجاج در بیت الله و منا هم صادق است اما اینها مثلا نخبگان مقاومت هستند و برای بنده با این کوته نظری قابل هضم نیست که سرداران این گونه از دنیا بروند و هیچ عکس العملی نداشته باشد!!
به من بگویید که آیا نمی توان کار دیگری را برای این شهدای بزرگ انجام داد؟

منبع : شیعه خبر ندانم، آیا مجلس ترحیم کافی است؟
برچسب ها : ترحیم ,مقاومت ,سردار ,سرداران ,انجام ,بلکه ,مجلس ترحیم ,ترحیم کافی ,انجام داد؟ ,کافی است؟ ,سرداران مقاومت

کیا ائمہ ہمارے اعمال کے ناظر و نگران ہیں؟

:: کیا ائمہ ہمارے اعمال کے ناظر و نگران ہیں؟

تفصیلی سوال:

اللہ تعالی سورہ یس کی آیت 12 میں ارشاد فرماتا ہے:

وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ

ترجمہ: اور ہر چیز کا احاطہ کیا ہم نے روشن مرتبے [اور روشن کر دینے] والے امام میں۔

نیز احادیث میں ہے کہ ہمارے اعمال کو ہر جمعرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

نیز ہم سوموار اور جمعرات کو ہمارے اعمال امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

نیز امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(ع) نے فرمایا: تمہارے اعمال ہر صبح اور شام، میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔

آپ کے خیال میں اس آیت کریمہ اور احادیث شریفہ کو کیونکر تطبیق دی جاسکتی ہے حالانکہ ان کے مضمون میں اختلاف پایا جاتا ہے؟ کیا ائمہ ہمارے اعمال کے شاہد ہی یا یہ کہ وہ خاص راتوں کو ان اعمال سے آگاہ ہوجاتے ہیں؟

اگر ائمہ ہر چیز پر محیط ہیں تو پھر ان حدیثوں کا کیا ہوگا جن میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک امام نے دوسرے امام کو نصائح کئے ہیں اور تجاویز دی ہیں؟ بطور مثال امام رضا علیہ السلام نے امام محمد تقی علیہ السلام کو خط لکھا اور فرمایا: گھر کے اصلی دروازے سے باہر نکلا کرو تا کہ بے نواؤں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکو۔

آپ کے خیال میں امام محمد تقی علیہ السلام پہلے سے اس حکم سے آگاہ نہیں تھے حالانکہ آپ نے اپنے والد کی نصیحت کے مطابق عمل کیا۔۔۔

 جزاک اللہ

...

مختصر جواب:

آیات کریمہ اور احادیث شریفہ میں اس حقیقت پر تاکید ملتی ہے کہ ائمہ علیہم السلام شب و روز ہمارے اعمال سے آگاہ ہوتے ہیں اور کچھ خاص اوقات پر بھی ہمارے اعمال [مجموعی طور پر] ان کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔

اب یہ کہ بعض ائمہ نے بعض دوسروں کو وصیتیں کیوں کی ہیں، تو کہنا چاہئے کہ ائمہ علیہم السلام کے علوم خدا کی طرف سے انہیں عطا ہوئے ہیں لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ بعض علوم کو دوسرے معصومین کے واسطے سے حاصل کریں۔ 

 

تفصیلی جواب:

بحث شروع کرنے سے قبل ایک تمہید کی ضرورت ہے

 

علم امام  

اہل بیت عصمت و طہارت کی خصوصیات کے سلسلے میں تمام تر تعلیمات کے مجموعے کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ طاہرین علیہم السلام لوگوں کے اعمال کی کیفیت اور کمیت سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور خاص مواقع پر اور خاص حالات میں لوگوں کی ہدایت اور ان کے اعمال کی اصلاح کے لئے کچھ خاص اقدامات بھی عمل میں لاتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق، اسلامی بصیرت اور عالم وجود میں امام پر بھاری اور عظیم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور لوگوں پر بھی واجب ہے کہ بلا چون و چرا ان کی اتباع کریں۔ اس حقیقت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ امام دینی و دنیوی، کلی و جزئی امور نیز لوگوں کی ہدایت سے متعلق امور پر آگاہ اور مکمل طور پر مکمل طور پر مطلع ہو۔ حتی کہ اسی بنیاد پر شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ:

اولا: امام کو اعلم [یعنی سب سے زیادہ عالم] ہونا چاہئے،

ثانیا: امام کا علم پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ کے علم کی مانند حضوری اور اللہ کی جانب سے عطا کردہ، عام اور وسیع البنیاد ہونا چاہئے اور امام کو علم لدنی کا مالک ہونا چاہئے،

چنانچہ بعض احادیث شریفہ میں علمِ امام کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور اس کی کمیت و کیفیت بیان کی جاتی ہے اور اس کو "علم ما کان اور علم ما یکون" [ماضی، حال اور مستقبل کا علم] کہا جاتا ہے نیز کہا جاتا ہے (1) "إن الأئمة یعلمون علم ما کان وما یکون وإنه لا یخفی علیهم شیئ" [بےشک ائمہ ماضی کے علوم کو جانتے ہیں اور مستقبل علوم کو بھی جانتے ہیں اور کوئی بھی شیئ ان سے مخفی نہیں ہے]۔

نیز علامہ محمد باقر مجلسی رحمۃ اللہ علیہ بحار الانوار کی جلد 26 میں 22 حدیثیں اسی سلسلے میں نقل کرتے ہیں جن کے مطابق امام معصوم(ع) آسمان و زمین، جنت اور دوزخ میں واقع ہونے والے قیامت تک کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتا ہے اور ایسی کوئی بھی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں امام کو علم حاصل نہ ہو۔

ان روایات کے مضمون میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمۂ اطہار علیہم السلام اپنے پیروکاروں کی کارکردگیوں، سلوک اور ان کے اعمال و افعال حتی نیتوں سے باخبر رہتے ہیں۔

علاوہ ازیں امام زمانہ عجل اللہ فَرَجہُ الشریف نے فرمایا ہے: "لایعزب عنا شیء من اخبارکم" [تمہاری کوئی بھی خبر ہم سے خفیہ نہیں رہتی] (2)، ہم تمہاری امور سے باخبر رہتے ہیں۔ چنانچہ اس حدیث کے مطابق اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ امام زمانہ عجل اللہ فَرَجہُ الشریف کا علم ہمارے تمام امور پر احاطہ رکھتا ہے۔ (3)

 

اعمال نامہ امام کو پیش کیا جاتا ہے

قرآن کریم اور معصومین علیہم السلام سے منقولہ احادیث شریفہ کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام امت کے تمام اعمال سے آگاہ ہیں۔

خداوند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ

ترجمہ: اور [اے میرے حبیب] کہئے کہ تم اپنے فرائض بجا لاتے رہو، [اور جان لو کہ] اللہ دیکھتا ہے تمہارے عمل کو اور اس کا پیغمبر اور مؤمنین [بھی دیکھتے ہیں]۔ (4)

اس سلسلے میں منقولہ روایات بہت زيادہ ہیں؛ منجملہ علی بن ابراہیم قمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب المعروف بہ "تفسیر قمی" میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا:

"اللہ کی قسم! لوگوں کے تمام اعمال ـ خواہ نیک خواہ بد ـ ہر صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں پیش کئے جانتے ہیں، پس خیال رکھنا۔۔۔"۔ (5)

عبداللہ بن ابان کہتے ہیں: میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ "میرے لئے اور میرے خاندان کے لئے دعا فرمائیں"۔

فرمایا: کیا میں تمہارے لئے دعا نہیں کرتا؟

خدا کی قسم! ہر روز و شب تمہارے اعمال میرے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جہاں بھی مناسب ہو میں دعا کرتا ہوں۔

عبداللہ کہتے ہیں: امام علیہ السلام کے اس کلام سے میں متعجب ہوا کہ ہمارے اعمال ہر شب و روز آپ(ع) کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں؛ امام(ع) میرے تعجب کو دیکھ کر فرماتے لگے:

کیا تو کتاب خدا کی تلاوت نہیں کرتے جہاں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:

وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ

ترجمہ: اور [اے میرے حبیب] کہئے کہ تم اپنے فرائض بجا لاتے رہو، [اور جان لو کہ] اللہ دیکھتا ہے تمہارے عمل کو اور اس کا پیغمبر اور مؤمنین [بھی دیکھتے ہیں]۔

اور مزيد فرمایا: خدا کی قسم اس آیت میں "مؤمنون" سے مراد علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ (6) اور چونکہ تمام ائمۂ طاہرین علیہم السلام نفسِ واحد ہیں اور سب ایک ہی نور سے ہیں چنانچہ جو بھی وصف ایک کے لئے ثابت ہوگا وہ تمام ائمہ کے لئے بھی ثابت ہوگا۔

یہ آیت بیان کرتی ہے کہ خداوند متعال، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور مؤمنین ہماری کارکردگیوں سے آگاہ ہیں اور یہی آیت کریمہ شیعیان اہل بیت(ع) کے اس عقیدے کو بیان کرتی ہے کہ ہمارے اعمال اولیائے الہی کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ اعمال کو شب و روز بھی ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ہر ہفتے اور ہر مہینے میں بھی ایک بار مجموعی طور پر۔ اور اگر ہمارے اعمال اچھے ہوں تو اولیائے الہی خوش ہوتے ہیں اور اگر برے ہوں تو غمگین اور فکرمند ہوجاتے ہیں اور اگر ہم اس حقیقت پر ایمان رکھیں تو اس سے افراد کی تربیت اور ان میں تقوی اور پرہیزگاری کے عنصر کو تقویت ملتی ہے۔

اس حقیقت سے آگہی کے بعد، اصل بات یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی قوت و استعداد کے مطابق اس طرح سے عمل کرے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ اطہار علیہم السلام ہم سے خوش ہوں۔

اس سلسلے میں منقول ہے کہ ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تم کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کو ناراض کرتے ہو؟

حاضرین میں سے ایک نے سوال کیا: اے فرزند رسول(ص)! ہم کس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو ناراض کرسکتے ہیں؟

امام(ع) نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ تمہارے سارے اعمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں؟ پس اگر تم نے گناہ کا ارتکاب کیا ہو تو آپ(ص) ناراض اور رنجیدہ خاطر ہوجاتے ہیں؛ پس اپنے برے اعمال کے ذریعے رسول اللہ(ص) کو ناراض نہ کرو بلکہ کوشش کرو کہ اپنے نیک اعمال کے ذریعے آپ(ص) کو خوشنود اور مسرور کرو۔ (7)

چنانچہ ان آیات کریمہ اور احادیث شریفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ اور شیعیان اہل بیت(ع) کے تمام اعمال رسول خدا(ص) اور ائمۂ معصومین(ع) کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں، اور وہ ہمارے تمام اعمال سے آگاہ ہیں۔

ان وضاحتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آیات اور احادیث میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے۔

دوسرے سوال کا جواب

اس سوال کے سلسلے میں بھی احادیث موجود ہیں جن میں سے بعض میں فرمایا گیا ہے کہ یہ اعمال صرف بعض راتوں کو ان کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں جیسے شب قدر شب جمعہ وغیرہ ۔۔۔ اور یہ بات بھی اس بات سے متصادم نہیں ہے کہ ائمۂ طاہرین علیہم السلام شب و روز ہمارے تمام اعمال کے ناظر اور شاہد ہیں اور اللہ نے انہیں یہ اختیار عطا فرمایا ہے۔

اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ ایک ادارے کا سربراہ پورا دن اپنے ماتحت کارکنوں کی کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے اور ان کے تمام اعمال سے آگاہ ہوتا ہے اور انہیں کام کرتے ہوئے دیکھتا بھی ہے لیکن ہفتے یا مہینے یا سال کے آخر میں یہ کسی بھی وقت ان کی کارکردگی رپورٹ کا جائزہ لیتا ہے اور ان پر دستخط کرتا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ "ائمہ ایک دوسرے کو نصیحت کیوں کرتے ہیں" تو کہیں گے کہ:

پہلی بات تو یہ ہے کہ ائمۂ معصومین کا علم علم لدنی اور اللہ کا عطا کردہ علم ہے لیکن اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ بعض علوم ایک معصوم اپنے سے پہلے کے معصوم سے حاصل کرے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی حیات شریفہ کے آخری لمحوں میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو بلایا اور آپ(ع) کے کان میں طویل سرگوشی فرمائی اور امیرالمؤمنین(ع) نے بعد میں لوگوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ(ص) نے مجھ پر علم و دانش کے ایک ہزار دروازے کھول دیئے جن میں سے ہر ہردروازے سے مزید ایک ہزار دروازے کھلتے ہیں۔ (8)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

 

[1] مظفر، محمدحسین، علم الامام ،ج3 ،ص17؛ مظفر، محمدحسین، امام شناسی ، ج42 ،ص11، درس 65 تا 67 . مکتبه الشامله. 

[2]   المجلسى، محمدباقر، بحارالانوار، ج‏53، ص‏175  ، مؤسسه الوفا، بیروت، لبنان، 1404.

[3]   برای آگاهی بیشتر درباره علم امامان مراجعه شود به:  علم اولیای خدا ، 189 (سایت: 953) ؛  علم غیب ائمه(ع) ، 2775 (سایت: 3259) .

[4]   سورہ توبہ، آیت 105 .

[5]   الکلینى، محمدبن یعقوب، الکافی، ج ‏1، ص 219، کتاب الحجة، باب عرض الاعمال على النبى و الائمة،  دارالکتب الاسلامیة، تهران، 1365،هـ.ش.

[6]   الکلینی، وہی ماخذ، ج1، ص ‏219، ح‏ 4  .

[7]   الکلینی، وہی ماخذ، ج 1، ص ‏219، ح 3.

[8]  حنفی قندوزی، سلیمان بلخی، ینابیع المودة، تحقیق: سید علی جمال اشرف الحسینی، ج 1، ص 208؛ چاپ اول، دار الاسوه، [بی جا]، 1416،هـ.ق.

منبع : شیعه خبر کیا ائمہ ہمارے اعمال کے ناظر و نگران ہیں؟
برچسب ها : اللہ ,اعمال ,امام ,علیہ ,السلام ,رسول ,اللہ علیہ ,علیہ السلام ,علیہم السلام ,ہمارے اعمال ,رسول اللہ ,طاہرین علیہم السلام ,اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَ

اردنی ایم پی کے سوالات "شیعہ ـ سنی لڑائی" کے بارے میں

:: اردنی ایم پی کے سوالات "شیعہ ـ سنی لڑائی" کے بارے میں
نام: طارق الخوری

عہدہ: رکن پارلیمان

دین: اسلام

مذہب: اہل سنت والجماعت

طارق خوری

الخوری عرب ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے شیعیان عالم کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ "تم اس بات سے غافل ہوگئے ہو کہ صہیونی ریاست مسلمانوں کی اصل دشمن ہے"۔

وہ ان حکمرانوں اور مولوی حضرات پر کڑی تنقید کرتے ہیں جو فرقہ وارانہ رجحان رکھتے ہیں اور شیعیان اہل بیت(ع) کو مغربی ایشیا (یعنی مشرق وسطی) کے ناگفتہ بہ حالات کے ذمہ دار سمجھتے ہیں اور بہت ہی دقیق سوالات پوچھتے ہیں جو ہم اردو میں اپنے قارئین کی نذر کررہے ہیں۔ ان سوالات کے آخر میں کـچھ سوالات خود بھی پوچھتے ہیں جن کا جواب ہم فرقہ واریت کے حامیوں سے مانگتے ہیں: طارق الخوری لکھتے ہیں: صرف صہیونی ریاست ہی ہے جو مسلم ممالک کے موجودہ حالات سے خوش ہے جبکہ کسی بھی مسلمان کے لئے خوشی کا کوئی سبب موجود نہیں ہے؛ چنانچہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کو چاہئے کہ متحد ہوکر اپنے حقیقی دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جائیں۔

طارق الخوری کے سوالات:

٭ کیا لیبیا کو شیعوں نے تباہ کیا؟ کیا لیبیا کے سنیوں کو شیعہ قتل کررہے ہیں؟

٭ کیا وہ افراد شیعہ ہیں جو عراق، سعودی عرب، کویت [اور پاکستان اور افغانستان] میں خود کش کاروائیاں کررہے ہیں؟

٭ کیا مسجد الاقصی کو شیعوں نے نذر آتش کیا؟

٭ کیا صومالیہ کو شیعوں نے جلا کر رکھ دیا؟

٭ جن جہازوں نے بغداد پر بمباری کی اور صدام کو ہلاک کیا، شیعہ ہوائی اڈوں سے اڑے تھے؟

٭ اے سنیو! اے شیعو! جاگو، بیدا ہوجاؤ کیونکہ تم دونوں کا دشمن [صہیونی ریاست] ان صورت حال سے خوش ہے۔ ٭ کیا صحرائے سینا میں دھماکے شیعہ کررہے ہیں؟

٭ کیا القاعدہ، داعش اور جبہۃ النصرہ شیعہ ہیں؟

٭ اے خودکش حملہ آورو! تم صہیونیوں پر خودکش حملے کیوں نہیں کرتے ہو؟ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم اپنے لوگوں اور اپنی قوموں کو نشانہ بنا رہے ہو۔

٭ کیا شیخ یوسف القرضاوی [جس نے لیبیا، مصر اور شام کے حکمرانوں کو واجب القتل قرار دیا] شیعہ ہے؟

٭ کیا یہ وہی شخص نہیں ہے جس نے ہر حرام کو حلال کردیا؟ مبارک ہو صہیونیوں کو کہ ہماری بندوقوں کا رخ دوسری جانب ہٹانے میں کامیاب ہوچکے ہیں جبکہ وہ ہر روز کالونیاں بنا رہے ہیں اور ہم پر ہنس رہے ہیں۔

٭ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب، لیبیا اور تیونس کے باشندے تمام اسلامی ممالک میں خودکش حملے اور دھماکے کررہے ہیں ""سوائے فلسطین کے"" [صہیونیوں کو وہ ہرگز نشانہ نہیں بناتے] کیا حزب اللہ نے انہيں روک رکھا ہے؟

٭ تم حزب اللہ پر ملامت کرتے ہو کہ اس نے فلسطین کو آزاد نہیں کرایا! جبکہ یہ ایک جماعت ہے اور اس میں محدود افراد ہیں لیکن تم ان ممالک اور حکومتوں پر کیوں ملامت نہیں کرتے ہو جو چوری چھپے یا حتی علی الاعلان صہیونیوں کی خوشنودی حاصل کررہی ہیں جن میں سب سے آخری فرد ""رجب طیب اردوگان"" ہے؟

"بہر صورت میری اپنی رائے ہے اور تمہاری رائے کچھ اور ہے۔ جب بھی دیکھوں گا کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کا کوئی باشندہ فلسطین میں فدائی حملہ کرے گا میں بھی اپنی رائے بدل لوں گا"۔

"جب میں دیکھوں گا کہ داعش اور القاعدہ اپنا پرچم صہیونی ریاست کی پارلیمان پر لہرائیں گے اور عرب ریاستیں اپنے دارالحکومتوں میں صہیونی سفارت خانے بند کریں گے مطمئن ہوجاؤں گا کہ میں غلطی پر تھا"۔

مترجم: اپن

منبع : شیعه خبر اردنی ایم پی کے سوالات "شیعہ ـ سنی لڑائی" کے بارے میں
برچسب ها : شیعہ ,نہیں ,سوالات ,صہیونی ,کررہے ,کرتے ,صہیونی ریاست ,طارق الخوری ,کررہے ہیں؟ ,اپنی رائے ,نہیں کرتے